The Essence of Urdu Poetry
Shair-e-Anokha Lehja
غزل -جون ایلیا
عیشِ امید ہی سے خطرہ ہے
دِل کو اب دِل دہی سے خطرہ ہے
ہے کچھ ایسا کہ اُس کی جلوت میںہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے
جس کی آغوش کا ہوں دیوانہاُس کی آغوش ہی سے خطرہ ہے
یاد کی دُھوپ تو ہے روز کی باتہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے
ہے عجب کچھ معاملہ درپیشعقل کو آگہی سے خطرہ ہے
شہرِ ِ غدار !جان لے کہ تجھےایک امروہوی سے خطرہ ہے
میں کہوں کِس طرح یہ بات اُس سےتجھ کو جانم مُجھی سے خطرہ ہے
آج بھی اے کنار ِ بان مجھے!تیری اِک سانولی سے خطرہ ہے
اُن لبوں کا لہُو نہ پی جاؤںاپنی تِشنہ لبی سے خطرہ ہے
جون ہی تو ہے جون کے درپےمِیر کو مِیر ہی سے خظرہ ہے
اب نہیں کوئی بات خطرے کیاِن سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
English
Powered by OneTap
Default