NAYAB SHAIRY

The Essence of Urdu Poetry

Untitled design 5

Jaun Elia

Shair-e-Anokha Lehja

📅 1931 - 2002 | 📍 Pakistan
GHAZAL NAZAM ASHAAR IMAGE SHAIRY

عیشِ امید ہی سے خطرہ ہے


غزل -جون ایلیا

عیشِ امید ہی سے خطرہ ہے

دِل کو اب دِل دہی سے خطرہ ہے

 

ہے کچھ ایسا کہ اُس کی جلوت میں
ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے

 

جس کی آغوش کا ہوں دیوانہ
اُس کی آغوش ہی سے خطرہ ہے

 

یاد کی دُھوپ تو ہے روز کی بات
ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے

 

ہے عجب کچھ معاملہ درپیش
عقل کو آگہی سے خطرہ ہے

 

شہرِ ِ غدار !جان لے کہ تجھے
ایک امروہوی سے خطرہ ہے

 

میں کہوں کِس طرح یہ بات اُس سے
تجھ کو جانم مُجھی سے خطرہ ہے

آج بھی اے کنار ِ بان مجھے!
تیری اِک سانولی سے خطرہ ہے

 

اُن لبوں کا لہُو نہ پی جاؤں
اپنی تِشنہ لبی سے خطرہ ہے

 

جون ہی تو ہے جون کے درپے
مِیر کو مِیر ہی سے خظرہ ہے

 

اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اِن سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے