Untitled design 4

Amjad Islam Amjad

Modern Urdu Poet

📅 1944 - 2023 | 📍 Pakistan

دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے

دل کے دریا کو کسی روز

غزل-امجد اسلام امجد

دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل ، لوٹ کے گھر جانا ہے

اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہر جاتی ہے
جیسے پانا ہی اُسے ، اصل میں مر جانا ہے

بول اے شام سفر ، رنگ رہائی کیا ہے؟
دل کو رکنا ہے کے تاروں کو ٹھہر جانا ہے

کون اُبھرتے ہوئے مہتاب کا رستہ روکے
اس کو ہر طور سوئے دشتِ سحر جانا ہے

میں کھلا ہوں تو اسی خاک میں ملنا ہے مجھے
وہ تو خوشبو ہے، اُسے اگلے نگر جانا ہے

وہ ترے حُسن کا جادو ہو کہ میرا غم دل
ہر مسافر کو کسی گھاٹ اُتر جانا ہے

غزل کا مجموعی مطلب

شاعر کہتا ہے کہ انسان کی زندگی ایک سفر کی طرح ہے۔ دل کے جذبات، محبتیں، خواہشیں اور دنیا کی رونقیں ہمیشہ باقی نہیں رہتیں۔ آخرکار ہر شخص کو اپنے انجام یعنی موت کی طرف جانا ہے۔محبت بھی ایسی حقیقت ہے کہ جب انسان محبوب کو پا لیتا ہے تو گویا اس کی بے قراری ختم ہو جاتی ہے، جیسے اُس کی اپنی ہستی مٹ گئی ہو۔ شاعر یہ بھی بتاتا ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت اور منزل ہے؛ چاند کو طلوع ہو کر صبح کے صحرا کی طرف جانا ہے، خوشبو کو ایک جگہ نہیں رکنا بلکہ پھیلتے رہنا ہے، اور ہر مسافر کو آخر کسی نہ کسی گھاٹ پر اترنا ہے۔

اس غزل میں “لوٹ کے گھر جانا”، “خاک میں ملنا”، “گھاٹ اتر جانا” جیسے الفاظ موت اور فنا کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جبکہ “خوشبو” محبوب یا روحانی حسن کی علامت ہے جو ہمیشہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
دریاسمندر، وسیع بہاؤ
اتر جاناختم ہو جانا، گزر جانا
بے سمتبغیر راستے کے، بھٹکا ہوا
اصلحقیقی، بنیادی حقیقت
شامِ سفرسفر کی شام، زندگی کا آخری حصہ
رنگِ رہائیآزادی کی کیفیت، نجات کا احساس
مہتابچاند
سوئےکی طرف
دشتِ سحرصبح کا صحرا، روشنی کی منزل
خاکمٹی
نگرشہر
غمِ دلدل کا دکھ
گھاٹکنارۂ دریا، آخری پڑاؤ

مزید متعلقہ پوسٹس

Ghazals Faiz Ahmed Faiz
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →