Adeem Hashmi 4

Mirza Ghalib

Shahenshah-e-Ghazal

📅1797 - 1869 | 📍 India

غالب کے اشعار

مرزا غالب کے وہ منتخب اشعار جو انسانی نفسیات، عشق اور کائنات کے حقائق کی گہری عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا منفرد اندازِ بیاں اردو شاعری کی دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔

خواہشیں

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارماں لیکن پھر بھی کم نکلے

آہ

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

دلِ ناداں

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

جنت

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

محبت

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

موت

قیدِ  حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

آنسو

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

درد

عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

خدا

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

مزید متعلقہ پوسٹس

Mian Mohammad Bakhsh ke Ashaar
Ashaar Faiz Ahmed Faiz
Urdu Ashaar Library
Ashaar Baba Fariduddin Ganjshakar
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →