Untitled design 1

Allama Iqbal

Shair e Mashriq

📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistan

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

نظم – علامہ اقبال 

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

مجموعی مطلب
علامہ اقبال کی یہ نظم “بچے کی دعا” ایک معصومانہ مگر نہایت بلند پایہ خواہشات کا اظہار ہے۔ اس دعا میں شاعر اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ ان کی زندگی ایک روشن شمع کی طرح ہو جو علم کے نور سے دوسروں کی جہالت کا اندھیرا دور کر دے۔ وہ اپنے وطن کی خوبصورتی اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد غریبوں، بوڑھوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہو۔ نظم کا آخری حصہ اخلاقیات پر مبنی ہے، جس میں برائی سے بچنے اور صرف نیکی کی راہ پر چلنے کی دعا مانگی گئی ہے۔ یہ نظم ایک انسان کو بچپن سے ہی ہمدردی، علم دوستی اور وطن پروری کا سبق دیتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
تمناخواہش / آرزو
زینتخوبصورتی / سجاوٹ
چمنباغ / گلشن
پروانہشمع پر فدا ہونے والا پتنگا
حمایتمدد کرنا / طرفداری
ضعیفوںبوڑھوں اور کمزوروں
رہراستہ / طریق

مزید متعلقہ پوسٹس

جون ایلیا کی نظمیں
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
Urdu Nazams Library
Nazams of Amjad Islam Amjad
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →