
Shair e Mashriq
📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistanنظم – علامہ اقبال
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
ذرا سی چیز ہے، اس پر غرور، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور، کیا کہنا!
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
جو بات مجھ میں ہے، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں، جانور غریب کہاں
!کہا یہ سُن کے گلہری نے، مُنہ سنبھال ذرا
یہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا
جو مَیں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تُو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اُس کی حکمت ہے
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اُس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سِکھا دیا اُس نے
قدم اُٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نِری بڑائی ہے، خوبی ہے اور کیا تجھ میں
جو تُو بڑا ہے تو مجھ سا ہُنر دِکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دِکھا مجھ کو
نہیں ہے چیز نِکمّی کوئی زمانے میں
کوئی بُرا نہیں قُدرت کے کارخانے میں
مجموعی مطلب
علامہ اقبال کی یہ نظم “ایک پہاڑ اور گلہری” دراصل کائنات کے نظام اور اللہ کی حکمت کو بیان کرتی ہے۔ نظم میں ایک مغرور پہاڑ ایک چھوٹی سی گلہری کو حقیر سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتا ہے، جس پر گلہری اسے بہت ہی مدلل جواب دیتی ہے۔ وہ پہاڑ کو سمجھاتی ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز فضول یا نکمی نہیں ہے۔ اگر پہاڑ بڑا ہے تو وہ گلہری کی طرح درخت پر نہیں چڑھ سکتا اور نہ ہی ایک چھوٹی سی چھالیا توڑ سکتا ہے۔ اقبال اس نظم کے ذریعے پیغام دیتے ہیں کہ بڑائی صرف قد و قامت میں نہیں بلکہ ہنر اور کام میں ہوتی ہے، اور اللہ کی بنائی ہوئی ہر مخلوق اپنی جگہ اہم ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| شعور | سمجھ بوجھ / عقل |
| بساط | حیثیت / طاقت |
| پست | نیچی / کم تر |
| آن بان | شان و شوکت |
| حکمت | دانائی / اللہ کی مرضی |
| نِری | صرف / محض |
| چھالیا | سپاری (ایک سخت بیج) |
| نکمّی | بے کار / فالتو |
| کارخانہ | دنیا / کائنات |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved