
Shair e Mashriq
📅 1877 - 1938 | 📍 Pakistanغزل – علامہ اقبال
منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر
هر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
پتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کر
سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزر گئیں
دنیا تیری بدل دے وہ سجده تلاش کر
ایمان تیرا لٹ گیا رہزن کے ہاتھوں سے
ایمان تیرا بچا لے وہ رہبر تلاش کر
گھٹنے ٹکائے سر کو جھکایا ہوا ہے کیوں
ظالم کا سر اُڑا دے وہ جزبہ تلاش کر
قاتل ہی بن چکا ہے۔ منصف ہمارا اب
قاتل کو قتل کر دے وہ قاتل تلاش
ہر شخص جل رہا ہے عداوت کی آگ میں
اس آگ کو بجھا دے وہ پانی تلاش کر
کر دے سوار اونٹ پہ اپنے غلام کو
پیدل ہی خود چلے جو وہ آفا تلاش کر
مجموعی مطلب
یہ کلام انسان کو خودی کی بیداری اور مسلسل جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ انسان کو کبھی بھی ایک منزل پر رکنا نہیں چاہیے، بلکہ اگر دریا مل جائے تو سمندر کی جستجو کرنی چاہیے۔ وہ ہمیں مصلحت پسندی چھوڑ کر ایسا حوصلہ پیدا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جو بڑی سے بڑی مشکل (پتھر) کو بھی پاش پاش کر دے۔ نظم کے آخری اشعار میں عدل، ایمان کی حفاظت اور اسلامی تاریخ کے اس سنہری دور کی مثال دی گئی ہے جہاں حکمران اپنے غلاموں کو اونٹ پر بٹھا کر خود پیدل چلنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ یہ نظم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ پست ہمتی کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے جو ہمیں اپنے اندر وہ جذبہ تلاش کرنے کو کہتی ہے جو دنیا بدل سکے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| رہزن | راستہ لوٹنے والا / ڈاکو |
| رہبر | راستہ دکھانے والا / رہنما |
| جذبہ | جوش / تڑپ |
| منصف | انصاف کرنے والا / جج |
| عداوت | دشمنی / کینہ |
| آقا | مالک / سردار |
| صدیاں | سو سال کا عرصہ (Centuries) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved