ربا ! میرے حال دا محرم تُوں

کافی – شاہ حسین

ربا ! میرے حال دا محرم تُوں

اندر تُوں ہیں، باہر تُوں ہیں، رُوم رُوم وچ تُوں
تُوں ہیں تانا، تُوں ہے بانا، سب کجھ میرا تُوں
کہےحسین فقیر نماناں،میں ناہیں، سب تُوں

(Tashreeh) مرکزی خیال

تشریح: یہ کافی اللہ تعالیٰ کی ذات میں فنا ہونے کا بہترین نمونہ ہے۔ شاہ حسین فرماتے ہیں کہ اے میرے رب! میرے اصل حال سے صرف تو ہی واقف ہے۔ میرے ظاہر اور باطن میں صرف تیری ہی ذات کا جلوہ ہے۔ وہ “تانا بانا” کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح کپڑا دھاگوں کے بغیر کچھ نہیں، اسی طرح میرا وجود بھی تیرے بغیر کچھ نہیں، میرا سب کچھ تو ہی ہے۔ آخر میں وہ اپنی انا (میں) کو ختم کر کے اقرار کرتے ہیں کہ “میں کچھ نہیں ہوں، جو کچھ ہے وہ صرف تو ہے”۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
محرمرازدار / جاننے والا
رُوم رُوم وچبال بال میں / رگ رگ میں
تاناکپڑے کا لمبائی والا دھاگہ
باناکپڑے کا چوڑائی والا دھاگہ
نماناںعاجز / بے چارہ