Untitled design 15

Habib Jalib

Inqalabi Shaa’ir

📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistan

غزل – حبیب جالب 

ﺟﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

غزل – حبیب جالب 

ﺟﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﺑﺮﮒِ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﺭﻧﮓِ ﺧﺸﮏ ﻭ ﺗﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮ
ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﺗﯿﺮﯼ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ
ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺐ ﺁ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﺍﻧﺠﻢ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻟﺐ
ﺟﮭﻮﭦ ﮐﺎ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﺳﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ

Copy 📋

مجموعی مطلب:
شاعر کہتا ہے کہ ہم نے زندگی کے سب رنگ دیکھے، دکھ سہے، محبت کے قصے دیکھے، اپنے عاشقوں کا حال محبوب نے کبھی نہ دیکھا،

خاموش راتوں میں محبوب کو یاد کیا، اور اس معاشرے میں جھوٹ کو سر اٹھائے دیکھا۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
برگِ آوارہاڑا ہوا پتہ، بھٹکتا ہوا پتا
پہلومانند، طرح
رنگِ خشک و ترخشک اور تر حالتیں، ہر طرح کے رنگ و حال
ٹھنڈی آہیںغم بھری سانسیں، افسوس بھرے سانس
رات کے ہونٹوں پررات کی خاموشی میں، رات کی فضا میں
انجمستارے (نجم کی جمع)
جھوٹ کا اونچا سرجھوٹ کا غالب ہونا، باطل کا طاقتور ہونا

مزید متعلقہ پوسٹس

اب کے رُت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →