
Inqalabi Shaa’ir
📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistanغزل – حبیب جالب
غزل – حبیب جالب
ﺟﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﺑﺮﮒِ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﺭﻧﮓِ ﺧﺸﮏ ﻭ ﺗﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮ
ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ
ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﮯ ﺩﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ
ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺐ ﺁ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﺍﻧﺠﻢ ﮐﯽ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻟﺐ
ﺟﮭﻮﭦ ﮐﺎ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﺳﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
مجموعی مطلب:
شاعر کہتا ہے کہ ہم نے زندگی کے سب رنگ دیکھے، دکھ سہے، محبت کے قصے دیکھے، اپنے عاشقوں کا حال محبوب نے کبھی نہ دیکھا،
خاموش راتوں میں محبوب کو یاد کیا، اور اس معاشرے میں جھوٹ کو سر اٹھائے دیکھا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| برگِ آوارہ | اڑا ہوا پتہ، بھٹکتا ہوا پتا |
| پہلو | مانند، طرح |
| رنگِ خشک و تر | خشک اور تر حالتیں، ہر طرح کے رنگ و حال |
| ٹھنڈی آہیں | غم بھری سانسیں، افسوس بھرے سانس |
| رات کے ہونٹوں پر | رات کی خاموشی میں، رات کی فضا میں |
| انجم | ستارے (نجم کی جمع) |
| جھوٹ کا اونچا سر | جھوٹ کا غالب ہونا، باطل کا طاقتور ہونا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved