
Inqalabi Shaa’ir
📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistanحبیب جالب کے وہ لافانی اشعار جو کمزوروں کی آواز اور حق کے لیے لڑنے والوں کا حوصلہ ہیں۔ ان اشعار میں سچائی، بے باکی اور عوامی دکھوں کی حقیقی تصویر نظر آتی ہے۔
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
دکھ کی دھوپ کے سائے میں ہم
اپنا تن من جلاتے رہے
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرتے ہیں بادشاہوں کے
ہم سے پوچھو کہ ہجر کیا شے ہے
تم نے تو ساتھ چھوڑا ہے بس
میں نے اس شہر میں کیا کیا نہ سہا
تم نے پوچھا بھی نہیں حال مرا
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
ہم کو رہنا تھا محبت میں مگر
ہم سیاست میں الجھتے رہے
اپنی تنہائی میں اک عمر سے ہم
نام تیرا ہی لیے جاتے ہیں
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر، دیوار کو در، کرگس کو ہما کیا لکھنا
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved