Untitled design 15

Habib Jalib

Inqalabi Shaa’ir

📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistan

حبیب جالب کے اشعار

حبیب جالب کے وہ لافانی اشعار جو کمزوروں کی آواز اور حق کے لیے لڑنے والوں کا حوصلہ ہیں۔ ان اشعار میں سچائی، بے باکی اور عوامی دکھوں کی حقیقی تصویر نظر آتی ہے۔

حبیب جالب

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

Copy 📋

حبیب جالب

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

📋 Copy

حبیب جالب

دکھ کی دھوپ کے سائے میں ہم
اپنا تن من جلاتے رہے

📋 Copy

حبیب جالب

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرتے ہیں بادشاہوں کے

📋 Copy

حبیب جالب

ہم سے پوچھو کہ ہجر کیا شے ہے
تم نے تو ساتھ چھوڑا ہے بس

📋 Copy

حبیب جالب

میں نے اس شہر میں کیا کیا نہ سہا
تم نے پوچھا بھی نہیں حال مرا

📋 Copy

حبیب جالب

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

📋 Copy

حبیب جالب

ہم کو رہنا تھا محبت میں مگر
ہم سیاست میں الجھتے رہے

📋 Copy

حبیب جالب

اپنی تنہائی میں اک عمر سے ہم
نام تیرا ہی لیے جاتے ہیں

📋 Copy

حبیب جالب

ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر، دیوار کو در، کرگس کو ہما کیا لکھنا

📋 Copy

حبیب جالب

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

📋 Copy