Untitled design 7

Ahmad Faraz

Shair-e-Romance

📅 1931 - 2008 | 📍 Pakistan


غزل – احمد فراز

دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

غزل – احمد فراز

 دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
 
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا
 
صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت
رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا
 
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
 
تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
 
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا
 
کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا
ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا
 
میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا
 
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
 

مجموعی مطلب
احمد فراز کی یہ غزل ایک ایسے دوست یا محبوب کا نوحہ ہے جو قریب رہ کر بھی ساتھ نہ نبھا سکا۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ شخص جو کبھی دل کے بہت قریب تھا، اب اس طرح منہ پھیر کر گزر جاتا ہے جیسے کبھی کوئی تعلق ہی نہ رہا ہو۔ غزل کے اشعار میں اس تلخ حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ انسان جس پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے اور جسے اپنی جان میں گھول لیتا ہے، وہی اکثر اسے مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیتا ہے یا اسے نقصان پہنچاتا ہے۔ فراز نے تنہائی کے اس کرب کو بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ جب محبوب ساتھ تھا تو ساری دنیا قدموں میں تھی، مگر آج تنہائی میں کوئی حال پوچھنے والا بھی نہیں۔ مقطع میں شاعر ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے کہ ہر ہاتھ ملانے والا مخلص دوست نہیں ہوتا، کبھی کبھی لوگ صرف ظاہری تکلف کو دوستی کا نام دے دیتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
نادمشرمندہ، پشیمان
دامجال، پھندا
نکہتِ گلپھول کی خوشبو
غنچہکلی (پھول بننے سے پہلے کی حالت)
مراسمتعلقات، میل جول (رسم کی جمع)
دہلیزچوکھٹ، گھر کا دروازہ
سرِ دارسولی پر، پھانسی کے تختے پر
تعبیرخواب کا مطلب یا حقیقت بتانا
تکلفبناوٹ، دکھاوا، رسمی برتاؤ
اخلاصسچی محبت، خلوص، بے غرضی

مزید متعلقہ پوسٹس

گلزارِ ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
دل کے دریا کو کسی روز اتر جانا ہے
نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →