
Modern Urdu Poet
📅 1944 - 2023 | 📍 Pakistanغزل-امجد اسلام امجد
افلاک پہ سجتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
بہروپ بدلتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
جس آگ کو روشن کرنے کی غائت بھی انہیں معلوم نہیں
اُس آگ میں جلتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
جب سامنے کچھ منظر بھی نہیں اور ان ہونی کا ڈر بھی نہیں
آنکھوں کو ملتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
کیوں دنیا سے منہ موڑ لیا، کس چاند سے رشتہ جوڑ لیا
! پلکوں پہ لرزتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
نظروں میں کوئی منزل بھی نہیں، دریا بھی نہیں، ساحل بھی نہیں
بے کار بھٹکتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
سوچوں سے اُدھر ، نظروں سے پرے ، اک باغ کہیں موجود ہے کیا
خوشبو میں ڈھلتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
جب ان کی کوئی تعبیر نہیں، جب کھلتی یہ زنجیر نہیں
خوابوں میں چمکتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
جب ان سے کوئی رشتہ بھی نہیں، بندھن بھی نہیں ، ناتا بھی نہیں
تقدیر بدلتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
کیا ان کے جہاں میں بھی امجد قانون ہے دھرتی والوں کا
تاروں کو نگلتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
یہ نظم امجد اسلام امجد انسان کی بے چینی، خوابوں، امیدوں، حیرت اور کائنات کے رازوں پر سوال اٹھاتی ہے۔ شاعر “تاروں” کو ایک علامت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ کہیں یہ خواب ہیں، کہیں خواہشیں، کہیں یادیں اور کہیں انسان کے اندر کے سوالات۔ شاعر حیران ہے کہ آخر تارے مسلسل کیوں چمکتے، بدلتے، بھٹکتے اور انسان کے خوابوں میں اترتے رہتے ہیں۔
نظم میں ایک فلسفیانہ کیفیت ہے جس میں زندگی، تقدیر، خواب، محبت اور کائنات کے اسرار کو شاعرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ غزل امجد اسلام امجد کی کتاب” باتیں کرتے دن” سے ہے
| لفظ | معنی |
|---|---|
| افلاک | آسمان، بلند فضائیں |
| مسلسل | لگاتار |
| بہروپ | روپ بدلنا، مختلف شکل |
| غایت | انتہا، مقصد |
| منظر | نظارہ |
| ان ہونی | غیر متوقع بات، حادثہ |
| منہ موڑنا | لاتعلقی اختیار کرنا |
| لرزتے | کانپتے |
| منزل | مقصد |
| ساحل | کنارۂ دریا |
| بھٹکتے | راستہ کھونا |
| اُدھر | اُس طرف |
| تعبیر | خواب کی حقیقت |
| زنجیر | بندھن |
| ناتا | تعلق |
| تقدیر | قسمت |
| قانون | اصول |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved