آکھ نیں مائی آکھ نیں
کافی – شاہ حسین
آکھ نیں مائی آکھ نیں , میرا حالَ سائیں اگے آکھ نیں
پریم دے دھاگے انتر لاگے، سولاں سیتی ماس نیں
نجُ جنیدیئے بھولیئے مائی ، جن کرِ لائیو پاپُ نیں
کہےَ حسین فقیر نمانا ، جاندا مؤلا آپ نیں
تشریح : اس کافی میں شاہ حسین اپنی ماں (جو یہاں دنیا یا عقلِ عام کی علامت ہے) سے مخاطب ہو کر اپنی روحانی تڑپ کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں عشقِ الٰہی کے ایسے دھاگے پِروئے گئے ہیں کہ اب میرا گوشت کانٹوں سے چھلنی ہو رہا ہے، یعنی یہ عشق کوئی آسان راستہ نہیں بلکہ ایک تڑپ ہے۔ وہ دنیا کو بتاتے ہیں کہ میری اس حالت کا اصل حال صرف میرا “مولا” ہی جانتا ہے، کیونکہ وہی دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔
مشکل الفاظ کے معنی
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سائیں | مالک / اللہ تعالیٰ |
| انتر | اندر / دل کے اندر |
| سولاں | کانٹے / دکھ |
| سیتی | کے ساتھ |
| پاپ | گناہ / بوجھ |
| نمانا | عاجز / بے چارہ |