
Shair-e-Anokha Lehja
📅 1931 - 2002 | 📍 Pakistanغزل – جون ایلیا
غزل – جون ایلیا
آدمی وقت پر گیا ہوگا
وقت پہلے گزر گیا ہوگا
وہ ہماری طرف نہ دیکھ کے بھی
کوئی احسان دھر گیا ہوگا
خود سے مایوس ہو کے بیٹھا ہوں
آج ہر شخص مر گیا ہوگا
شام تیرے دیار میں آخر
کوئی تو اپنے گھر گیا ہوگا
مرہم ہجر تھا عجب اکسیر
اب تو ہر زخم بھر گیا ہوگا
مجموعی مطلب:
شاعر کہتا ہے کہ ہم بھیڑ یا خوف سے اپنا راستہ نہیں بدلتے، مشکلیں آئیں تب بھی ارادہ قائم رکھتے ہیں، دنیا کے بدلتے رنگ دیکھ کر اپنے اصول نہیں چھوڑتے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| احسان دھرنا | احسان کرنا، جتانا |
| مایوس | ناامید، جس کی آس ٹوٹ گئی ہو |
| دیار | بستی، علاقہ، ملک یا محبوب کی گلی |
| مرہمِ ہجر | جدائی کا علاج یا زخم پر لگانے والی دوا |
| اکسیر | نہایت مفید دوا، جادو اثر، قیمتی نسخہ |
| زخم بھرنا | تکلیف ختم ہونا، زخم کا ٹھیک ہونا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved