Untitled design 12

Munir Niazi

Shair-e-Haft Rang

📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistan

غزل ـ منیر نیازی

ﺍﺱ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﮨﮯ

غزل ـ منیر نیازی

ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​
ﺍﺱ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​

ﯾﮧ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺳﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﻓﺘﮕﺎﮞ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ​
ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​

ﻻﺋﯽ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺍُﮌﺍ ﮐﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺱ​
ﺑﺮﮐﮭﺎ ﮐﯽ ﺭُﺕ ﮐﺎ ﻗﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​

ﺩﻝ ﮐﻮ ﮨﺠﻮﻡِ ﻧﮑﮩﺖِ ﻣﮧ ﺳﮯ ﻟﮩﻮ ﮐﯿﮯ ​
ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﭽﮭﻼ ﭘﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​

ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺜﻞ ﻣﻮﺝ ﮨﻮﺍ ﺷﮩﺮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ​
ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﮨﮯ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​

ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﭩﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻝ​
ﻋﺒﺮﺕ ﺳﺮﺍﺋﮯ ﺩﮨﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​

 

مجموعی مطلب
منیر نیازی کی یہ غزل بیگانگی، ہجر کے کرب اور ماضی کی یادوں کا ایک نوحہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی اب آنسوؤں کی ایک مسلسل نہر بن چکی ہے اور وہ محبوب کے شہر میں ہوتے ہوئے بھی خود کو اجنبی اور تنہا محسوس کرتا ہے۔ غزل کے اشعار میں تنہائی کو ایک ‘زہر’ سے تشبیہ دی گئی ہے جو انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دیتا ہے۔ منیر نے گزرے ہوئے موسموں کی خوشبو اور بارش کی رت کو خوشی کے بجائے ایک ‘قہر’ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ یادیں انسان کو سکون نہیں لینے دیتیں۔ کائنات کی بے ثباتی اور لٹی ہوئی محفلوں کا ذکر کرتے ہوئے شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ یہ دنیا ایک عبرت گاہ ہے جہاں انسان صرف اپنی آوارہ یادوں کے ساتھ بھٹکتا رہتا ہے۔ یہ غزل منیر نیازی کے اس مخصوص اداس اور خوابناک لب و لہجے کی بہترین نمائندگی کرتی ہے جو قاری کو ایک گہری سوچ میں مبتلا کر دیتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
اشکِ رواںبہتے ہوئے آنسو
رفتگاںجانے والے، بچھڑ جانے والے لوگ
باسخوشبو، مہک
برکھا کی رتبارش کا موسم
ہجومِ نگہتِ مہچاند کی خوشبو کا ہجوم
مثلِ موجِ ہواہوا کی لہر کی طرح
عبرت سرائے دہردنیا، جو عبرت حاصل کرنے کی جگہ ہے

مزید متعلقہ پوسٹس

Ishq K pachtaye Hum To Dil Na Kisi Se Lgana Tha
دل میں اِک لہر سی اٹھی ہے ابھی
سارے رشتے تباہ کر آیا
عیشِ امید ہی سے خطرہ ہے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →