
Shair-e-Haft Rang
📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistanﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
غزل – منیر نیازی
ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﺍﺱ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﯾﮧ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺳﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﻓﺘﮕﺎﮞ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ
ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺯﮨﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﻻﺋﯽ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺍُﮌﺍ ﮐﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺱ
ﺑﺮﮐﮭﺎ ﮐﯽ ﺭُﺕ ﮐﺎ ﻗﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﺩﻝ ﮐﻮ ﮨﺠﻮﻡِ ﻧﮑﮩﺖِ ﻣﮧ ﺳﮯ ﻟﮩﻮ ﮐﯿﮯ
ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﭽﮭﻼ ﭘﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺜﻞ ﻣﻮﺝ ﮨﻮﺍ ﺷﮩﺮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ
ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﮨﮯ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﭩﯽ ﻣﺤﻔﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻝ
ﻋﺒﺮﺕ ﺳﺮﺍﺋﮯ ﺩﮨﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ
مجموعی مطلب
یہ ناصر کاظمی کی انتہائی مقبول اور سدا بہار غزل ہے جو ہجر کے دکھوں، ماضی کی یادوں اور تنہائی کے کرب کو روایتی دھیمے لہجے میں بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چاروں طرف آنسوؤں کی ندی بہہ رہی ہے اور ہم اپنے بے وفا محبوب کے شہر میں بالکل تنہا کھڑے ہیں۔ پرانے بچھڑے ہوئے ساتھیوں کی یادیں اور اجنبی منزلیں زندگی میں زہر گھول رہی ہیں۔ بیتے ہوئے موسموں کی خوشبو جب یاد بن کر آتی ہے، تو وہ برسات کی رت بھی ایک قہر معلوم ہوتی ہے۔ رات کے آخری پہر چاند کی چاندنی اور خوشبو کا ہجوم دل کو اور زیادہ زخمی (لہو) کر دیتا ہے۔ انسان ہوا کی لہر کی طرح آوارہ شہر شہر گھومتا ہے اور آنکھوں میں اجڑی ہوئی محفلوں کی دھول اڑ رہی ہے، جس سے یہ کائنات ایک عبرت کا گھر (عبرت سرائے دہر) نظر آتی ہے۔۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| اشکِ رواں | بہتے ہوئے آنسو |
| رفتگاں | جانے والے، بچھڑ جانے والے لوگ |
| باس | خوشبو، مہک |
| برکھا کی رت | بارش کا موسم |
| ہجومِ نگہتِ مہ | چاند کی خوشبو کا ہجوم |
| مثلِ موجِ ہوا | ہوا کی لہر کی طرح |
| عبرت سرائے دہر | دنیا، جو عبرت حاصل کرنے کی جگہ ہے |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved