
Shair-e-Anokha Lehja
📅 1931 - 2002 | 📍 Pakistanنظم – جون ایلیا
غزل – جون ایلیا
تم جب آؤ گی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے، جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدہ عشرت انجام نہیں پاسکتا
زندگی میں بھی آرام نہیں پاسکتا
مجموعی مطلب
جون ایلیا کی یہ نظم علم، کتابوں اور تنہائی کے درمیان گھری ہوئی ایک اداس زندگی کا نقشہ کھینچتی ہے۔ شاعر اپنی محبوبہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر وہ کبھی اس کے پاس آئے گی تو اسے ایک ہارا ہوا اور کھویا ہوا انسان پائے گی جس کی زندگی میں خوابوں کے سوا اب کچھ باقی نہیں رہا۔ وہ کہتا ہے کہ محبوبہ کو تو گھر سجانے کا شوق ہے، مگر اس کے کمرے میں کتابوں کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں—اور یہ کتابیں اس کے لیے سکون کے بجائے “ظلم” کا باعث بنی ہیں۔ جون کا ماننا ہے کہ حد سے زیادہ علم اور کتابوں میں چھپے ہوئے زندگی کے اسرار و رموز (رمز) انسان کے ذہن کو ایسا الجھا دیتے ہیں کہ وہ کبھی خوشی کی خوشخبری (مژدہ عشرت) حاصل نہیں کر پاتا اور نہ ہی اسے عام انسانوں جیسی پرسکون زندگی نصیب ہوتی ہے۔ یہ نظم علم کی اس قیمت کا بیان ہے جو ایک حساس فنکار اپنی ذہنی آسودگی دے کر چکاتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| تمنا | خواہش، آرزو |
| رمز | اشارہ، بھید، چھپا ہوا راز |
| مژدہ | خوشخبری، بشارت |
| عشرت | خوشی، عیش و آرام، لذت |
| انجام | نتیجہ، خاتمہ |
| مارا ہوا ذہن | پریشان حال، الجھا ہوا دماغ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved