
Faiz Ahmed Faiz
Shair-e-Inqilab
📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistan
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
❤️ 0
📋
🔗
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
❤️ 0
📋
🔗
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
❤️ 0
📋
🔗
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
❤️ 0
📋
🔗
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
❤️ 0
📋
🔗
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
❤️ 0
📋
🔗
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
❤️ 0
📋
🔗
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
❤️ 0
📋
🔗
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
❤️ 0
📋
🔗
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
❤️ 0
📋
🔗