wasi shah

Wasi Shah

Mohabbat ka Shaair

📅 1973 - tahal | 📍 Pakistan

بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں

نظم – وصی شاہ

بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
ضبط کا حوصلہ بڑھا لینا
آنسوؤں کو کہیں چھپا لینا
کانپتی ڈولتی صداؤں کو
چپ کا روگ لگا لینا

 

بے سبب بھی کبھی کبھی ہنسنا
جب بھی ہو کوئی بات تلخی کی
گفتگو کا رخ بدل دینا
بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا

 

مجموعی مطلب

اس نظم میں شاعر کہہ رہا ہے کہ تمہاری یادوں نے مجھے اپنی تکلیف چھپانا، صبر کرنا اور تلخ حالات میں بھی مسکرا کر جینا سکھا دیا ہے

 

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
بے سبببغیر کسی وجہ کے / فضول
ضبطصبر کرنا / خود پر قابو پانا
صداؤںآوازوں
روگبیماری / دکھ
تلخیکڑواہٹ / ناگوار باتcollar
رخ بدلناسمت بدل دینا / بات گھما دینا
کانپتی ڈولتیلڑکھڑاتی ہوئی / غیر مستحکم

مزید متعلقہ پوسٹس

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
تمہیں کتنا چاہتے ہیں – نظم
Nazams Of Habib Jalib
وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →