
Mohabbat ka Shaair
📅 1973 - tahal | 📍 Pakistanنظم – وصی شاہ
بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
ضبط کا حوصلہ بڑھا لینا
آنسوؤں کو کہیں چھپا لینا
کانپتی ڈولتی صداؤں کو
چپ کا روگ لگا لینا
بے سبب بھی کبھی کبھی ہنسنا
جب بھی ہو کوئی بات تلخی کی
گفتگو کا رخ بدل دینا
بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
مجموعی مطلب
اس نظم میں شاعر کہہ رہا ہے کہ تمہاری یادوں نے مجھے اپنی تکلیف چھپانا، صبر کرنا اور تلخ حالات میں بھی مسکرا کر جینا سکھا دیا ہے
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بے سبب | بغیر کسی وجہ کے / فضول |
| ضبط | صبر کرنا / خود پر قابو پانا |
| صداؤں | آوازوں |
| روگ | بیماری / دکھ |
| تلخی | کڑواہٹ / ناگوار باتcollar |
| رخ بدلنا | سمت بدل دینا / بات گھما دینا |
| کانپتی ڈولتی | لڑکھڑاتی ہوئی / غیر مستحکم |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved