wasi shah

Wasi Shah

Mohabbat ka Shaair

📅 1973 - tahal | 📍 Pakistan

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا

نظم – وصی شاہ

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بیتابی سے فرقت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں ترے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا

رات کو جب بھی تو نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا اک تکیہ بنایا کرتی

میں ترے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زلفوں کو ترے گال کو چوما کرتا

جب بھی تو بند قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو ترے حسن سے خیرہ کرتا

مجھ کو بیتاب سا رکھتا تری چاہت کا نشہ
میں تری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا

میں ترے جسم کے آنگن میں کھنکتا ہوتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا!

مزید متعلقہ پوسٹس

Nazams of Wasi Shah
ﺍُﮔﺎ ﺳﺒﺰﮦ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →