
Modern Urdu Poet
📅 1944 - 2023 | 📍 Pakistanغزل-امجد اسلام امجد
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا
سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے
کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا
بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم
ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا
چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت
زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا
دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے
وہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا
بے ارادہ لمس کی وہ سنسنی پیاری لگی
کم توجہ آنکھ کا وہ دیکھنا اچھا لگا
نیم شب کی خاموشی میں بھیگتی سڑکوں پہ كل
تیری یادوں کے جلو میں گھومنا اچھا لگا
اس عدوئے جاں کو امجد میں برا کیسے کہوں
جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا
مجموعی مطلب
امجد اسلام امجد کی یہ غزل محبت کی ان نازک کیفیات کا بیان ہے جو کسی غیر متوقع ملاقات سے پیدا ہوتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہجوم میں ایک اجنبی (محبوب) کا اچانک مل جانا اور اس کا چھپ کر دیکھنا بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔ غزل کے اشعار میں محبوب کی چھوٹی چھوٹی ادائیں، جیسے چائے پیتے ہوئے مسکرانا یا بات کرتے ہوئے رک کر کچھ سوچنا، شاعر کے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔ ایک خوبصورت نکتہ یہ بھی ہے کہ انسان ہزار ارادے کرے کہ وہ محبوب کو بھلا دے گا، لیکن جب وہ سامنے آتا ہے تو سارے ارادے خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں۔ مقطع میں شاعر اعتراف کرتا ہے کہ جس شخص نے اسے دکھ دیا (عدوئے جاں)، وہ اسے برا نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ جب بھی سامنے آتا ہے، اپنی تمام بے وفائیوں کے باوجود اچھا ہی لگتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جلو | ساتھ، ہمراہی، سایہ |
| عدوئے جاں | جان کا دشمن، محبوب (جو پیارا بھی ہو اور تکلیف بھی دے) |
| زیرِ لب | ہونٹوں کے نیچے، دبی دبی مسکراہٹ |
| لمس | چھونا، ٹچ کرنا |
| نیم شب | آدھی رات |
| عہد باندھنا | وعدہ کرنا، ارادہ کرنا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved