
Shair-e-Inqilab
📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistanنظم- فیض احمد فیض
نظم- فیض احمد فیض
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے، سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
مجموعی مطلب
فیض احمد فیض کی یہ نظم “بول” جراتِ اظہار اور آزادیٔ رائے کا ایک عظیم اعلامیہ ہے۔ شاعر انسان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتا ہے کہ جب تک تمہارے لبوں پر پہرہ نہیں ہے اور تمہاری زبان تمہارے اختیار میں ہے، حق کے لیے آواز بلند کرو۔ وہ لوہار کی بھٹی کے استعارے سے سمجھاتے ہیں کہ جب حالات بدلنا شروع ہوں اور تبدیلی کی تپش محسوس ہو، تو وہی وقت ہوتا ہے زنجیروں کو توڑنے کا۔ یہ نظم پیغام دیتی ہے کہ سچ کو چھپانا نہیں چاہیے، کیونکہ جسم کی موت سے زیادہ بڑی موت زبان اور ضمیر کی خاموشی ہے۔ یہ نظم ہر دور کے مظلوموں کے لیے ہمت کا استعارہ ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ستواں جسم | سیدھا اور کسا ہوا جسم (مراد توانا ہونا) |
| آہن گر | لوہار (لوہا کوٹنے والا) |
| تند | تیز / بھڑکتے ہوئے |
| آہن | لوہا |
| قفل | تالا |
| دہانے | منہ / سوراخ |
| زنجیر کا دامن | زنجیر کی کڑیاں / پھیلاؤ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved