download 10

Faiz Ahmed Faiz

Shair-e-Inqilab

📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistan

نظم- فیض احمد فیض 

تنہائی

پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں، کوئی نہیں

نظم- فیض احمد فیض 

پھر کوئی آیا دلِ زار! نہیں، کوئی نہیں

راہرو ہوگا، کہیں اور چلا جائے گا

 

ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار

لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ

 

سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک رہگزار

اجنبی خاک نے دھندلا دیے قدموں کے سراغ

 

گل کرو شمعیں، بڑھا دو مئے و میناو ایاغ

 اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو

 

اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا

 

مجموعی مطلب
فیض احمد فیض کی یہ نظم “تنہائی” انتظار کی اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جہاں امید دم توڑ چکی ہو۔ شاعر اپنے دل کو سمجھاتا ہے کہ رات ڈھل چکی ہے اور اب کسی کے آنے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو آہٹ سنائی دی وہ شاید کسی راہ چلتے مسافر کی تھی، کوئی اپنا نہیں آیا۔ نظم کے آخر میں وہ ایک گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب شمعیں بجھا دو، مے و مینا سمیٹ لو اور اپنے دروازے بند کر لو، کیونکہ اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ یہ نظم انسان کی اس اندرونی تنہائی کا مرثیہ ہے جہاں وہ تھک ہار کر خود کو دنیا سے الگ کر لیتا ہے۔

Copy 📋

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
دلِ زاردکھی دل / رنجیدہ دل
راہرومسافر / راستہ چلنے والا
تاروں کا غبارتاروں کی مدھم ہوتی روشنی
خوابیدہ چراغسوئے ہوئے یا بجھتے ہوئے چراغ
رہگزارراستہ / گزرگاہ
مئے و مینا و ایاغشراب، صراحی اور پیالہ
کواڑدروازے کے پٹ
مقفلتالا لگا ہوا / بند

مزید متعلقہ پوسٹس

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
خود آپ  اپنی نظر میں حقیر میں بھی نہ تھا
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →