
Inqalabi Shaa’ir
📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistanنظم – حبیب جالب
نظم – حبیب جالب
دِیپ جس کا محلات ہی میں جَلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پَلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
میں بھی منصور ہوں، کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
یہ نظم ظلم، جھوٹے نظام، ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسا نظام جو صرف امیروں کو فائدہ دے، وہ اسے قبول نہیں کرتا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| دِیپ | چراغ، دیا |
| مصلحت | مطلب پرستی، فائدہ دیکھ کر کام کرنا |
| دستور | آئین، نظام، قانون |
| تختۂ دار | پھانسی کا تختہ |
| منصور | منصور حلاج (حق بات پر سزا پانے والا) |
| اغیار | دشمن، غیر لوگ |
| جہل | جہالت، علم کا نہ ہونا |
| رندوں | بے فکر، آزاد مزاج لوگ |
| ذہن کی لوٹ | سوچوں کی چوری، ذہنی دھوکہ |
| فسوں | جادو، فریب، دھوکہ |
| چارہ گر | علاج کرنے والا، مددگار |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved