Untitled design 15

Habib Jalib

Inqalabi Shaa’ir

📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistan

نظم – حبیب جالب

دِیپ جس کا محلات ہی میں جَلے

نظم – حبیب جالب

دِیپ جس کا محلات ہی میں جَلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پَلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے
میں بھی منصور ہوں، کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر دردمندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

 

مختصر مطلب

یہ نظم ظلم، جھوٹے نظام، ناانصافی اور جبر کے خلاف آواز ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایسا نظام جو صرف امیروں کو فائدہ دے، وہ اسے قبول نہیں کرتا۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
دِیپچراغ، دیا
مصلحتمطلب پرستی، فائدہ دیکھ کر کام کرنا
دستورآئین، نظام، قانون
تختۂ دارپھانسی کا تختہ
منصورمنصور حلاج (حق بات پر سزا پانے والا)
اغیاردشمن، غیر لوگ
جہلجہالت، علم کا نہ ہونا
رندوںبے فکر، آزاد مزاج لوگ
ذہن کی لوٹسوچوں کی چوری، ذہنی دھوکہ
فسوںجادو، فریب، دھوکہ
چارہ گرعلاج کرنے والا، مددگار

مزید متعلقہ پوسٹس

تمہیں کتنا چاہتے ہیں – نظم
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
Nazams Of Habib Jalib
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →