Untitled design 12

Munir Niazi

Shair-e-Haft Rang

📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistan

نظم ـ منیر نیازی

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

نظم ـ منیر نیازی


ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

مجموعی مطلب
منیر نیازی کی یہ نظم “ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں” انسانی زندگی کے المیے اور پچھتاوے کی ایک دردناک عکاسی ہے۔ اس نظم میں شاعر اپنی اس فطرت کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ زندگی کے اہم ترین موڑ پر صحیح فیصلہ کرنے یا عمل کرنے میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ چاہے وہ کسی سے محبت کا اظہار ہو، کسی بچھڑے ہوئے کو واپس بلانا ہو، یا کسی دوست کی مشکل وقت میں مدد کرنا ہو—شاعر کا احساسِ جرم اسے تڑپاتا ہے کہ جب وقت نکل جاتا ہے تب اسے صحیح بات یاد آتی ہے۔ یہ نظم صرف تاخیر کے بارے میں نہیں، بلکہ اس کرب کے بارے میں ہے جو وقت گزر جانے کے بعد انسان کو “کاش” کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔ شاعر نے اپنی اس کمزوری کو ایک ایسی سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہر قاری اسے اپنی کہانی محسوس کرتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
ڈھارس بندھاناتسلی دینا، ہمت بڑھانا، دلاسہ دینا
دیرینہپرانا، قدیم، برسوں پرانا
رستوںراستوں (راستہ کی جمع)
سیر میں دل لگانامنظر سے لطف اندوز ہونا، مگن ہونا
حقیقتسچائی، اصل بات
نبھاناپورا کرنا، ساتھ دینا

مزید متعلقہ پوسٹس

میں گیا تھا اُس گلی میں
Famous Nazms of Ahmed Faraz
وہ باغ میں میرا منتظر تھا
Nazams of Rahat Indori
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →