
Shair-e-Haft Rang
📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistanنظم ـ منیر نیازی
نظم ـ منیر نیازی
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
مجموعی مطلب
منیر نیازی کی یہ نظم “ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں” انسانی زندگی کے المیے اور پچھتاوے کی ایک دردناک عکاسی ہے۔ اس نظم میں شاعر اپنی اس فطرت کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ زندگی کے اہم ترین موڑ پر صحیح فیصلہ کرنے یا عمل کرنے میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ چاہے وہ کسی سے محبت کا اظہار ہو، کسی بچھڑے ہوئے کو واپس بلانا ہو، یا کسی دوست کی مشکل وقت میں مدد کرنا ہو—شاعر کا احساسِ جرم اسے تڑپاتا ہے کہ جب وقت نکل جاتا ہے تب اسے صحیح بات یاد آتی ہے۔ یہ نظم صرف تاخیر کے بارے میں نہیں، بلکہ اس کرب کے بارے میں ہے جو وقت گزر جانے کے بعد انسان کو “کاش” کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔ شاعر نے اپنی اس کمزوری کو ایک ایسی سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہر قاری اسے اپنی کہانی محسوس کرتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ڈھارس بندھانا | تسلی دینا، ہمت بڑھانا، دلاسہ دینا |
| دیرینہ | پرانا، قدیم، برسوں پرانا |
| رستوں | راستوں (راستہ کی جمع) |
| سیر میں دل لگانا | منظر سے لطف اندوز ہونا، مگن ہونا |
| حقیقت | سچائی، اصل بات |
| نبھانا | پورا کرنا، ساتھ دینا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved