
Shair-e-Haft Rang
📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistanغزل ـ منیر نیازی
غزل ـ منیر نیازی
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
نظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھا
میں نیم شب آسماں کی وسعت کو دیکھتا تھا
زمیں پہ وہ حسن زار اترا تو میں نے دیکھا
گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا
خمار مے میں وہ چہرہ کچھ اور لگ رہا تھا
دم سحر جب خمار اترا تو میں نے دیکھا
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
نظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھا
مجموعی مطلب
منیر نیازی کی یہ غزل حقیقت کی پہچان اور بصیرت کے بدلتے ہوئے زاویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تک دل پر غم اور اداسی کا غبار تھا، اسے بہار کا اصل رنگ نظر نہیں آیا، یعنی انسان کا داخلی سکون ہی اسے خارجی حسن دکھانے کا سبب بنتا ہے۔ غزل کے اشعار میں منیر کا مخصوص حیرت کا رنگ نمایاں ہے، جہاں وہ محبوب کے کوچے کے سائے کو تمام منظر بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ مقطع میں شاعر زندگی کی جدوجہد کا ایک بڑا فلسفہ بیان کرتا ہے کہ انسان جب ایک مشکل (دریا) سے پار اترتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ منزل مل گئی، مگر حقیقت میں اس کے سامنے ایک نئی آزمائش اور ایک اور دریا منتظر ہوتا ہے۔ یہ غزل انسانی تجربات کی گہرائی اور مسلسل بدلتی ہوئی کیفیات کا ایک حسین مرقع ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| غبار | گرد، مٹی (یہاں مراد دل کی کدورت یا بوجھ ہے) |
| نیم شب | آدھی رات |
| وسعت | پھیلاؤ، کشادگی |
| حسنِ زار | خوبصورتی کا باغ یا جگہ |
| سایۂ کوئے یار | محبوب کی گلی کا سایہ |
| خمارِ مے | شراب کا نشہ یا سرور |
| دمِ سحر | صبح کا وقت، پو پھٹنے کا وقت |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved