Rizwan Muqeem

Rizwan Muqeem

Ghazal Go Shair

📅 1991 - Ta-haal | 📍 Pakistan

غور کرتے ہیں تو فطرت کا پتہ چلتا ہے

غور کرتے ہیں تو

غزل – رضوان مقیمٓ

غور کرتے ہیں تو فطرت کا پتہ چلتا ہے
دشت، ٹیلوں کے تعاقب میں ہوا رکھتا ہے

بڑھتی جاتی ہے چراغوں کو بُجھانے سے نگاہ
لگتے لگتے یہ ہنر ہاتھ کہیں لگتا ہے

ہم ترے پاس بہانے سے چلے آتے ہیں
تیر کو فاصلہ طے کرنا نہیں پڑتا ہے

آستیں کھول دی بازو بھی کھلے رکھے ہیں
دیکھنا ہے کہ تو کب ، کیسے ، کہاں ڈستا ہے

میں نے اک خواب کے گارے سے بنایا ہے مکاں
جاگتا ہوں تو مرا کچھ بھی نہیں بچتا ہے

توڑ کے ضبط کی دیوار بہیں گے آنسو
دو کناروں سے کہاں آبِ رواں رکتا ہے

اس لئیے رکھتا ہوں رفتار میں آہستہ مقیمٓ
تیز چلتا ہوں فلک پاوں میں آ لگتا ہے.

مجموعی مطلب

مجموعی مطلب

رضوان مقیم صاحب کی یہ خوبصورت غزل انسان کو فطرت کے راز سمجھنے، حقیقت پسندی اور اپنے جذبات پر قابو رکھنے کا خوبصورت درس دیتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ زندگی کا سفر آسان نہیں، اس میں جہاں ناکامیوں اور اندھیروں کے بعد بصیرت حاصل ہوتی ہے، وہیں حریف اور منافق دوستوں سے بھی ہوشیار رہنا پڑتا ہے۔ انسان کے خواب اور خیالات کتنے ہی دلکش کیوں نہ ہوں، حقیقت کی دنیا ان سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ غزل انسان کو سکھاتی ہے کہ غم اور صدمے جتنے بھی گہرے ہوں، صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور انسان کو زندگی کے اس سفر میں غرور و تکبر کی بجائے عاجزی، احتیاط اور دھیمے پن کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
تعاقبپیچھا کرنا / پیچھے بھاگنا
ٹیلوںریت یا مٹی کے چھوٹے پہاڑ / ڈھیر
ہنرفن / صلاحیت / مہارت
فاصلہدوری / مسافت
آستیںآستین / بازو کا کپڑا
ڈستاڈسنا / سانپ کا کاٹنا / دھوکا دینا
گاراگیلی مٹی جو مکان بنانے میں استعمال ہوتی ہے
ضبطبرداشت / صبر / خود پر قابو
آبِ رواںبہتا ہوا پانی / ندی یا دریا
فلکآسمان / اونچائی

مزید متعلقہ پوسٹس

خود آپ  اپنی نظر میں حقیر میں بھی نہ تھا
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہيں
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →