Rizwan Muqeem

Rizwan Muqeem

Ghazal Go Shair

📅 1991 - Ta-haal | 📍 Pakistan

بیکار مجھ کو جان کے بیکار ہنس پڑے

رکھتا ہوں بھاؤ تاؤ میں

 غزل –  رضوان مقیمٓ

بیکار مجھ کو جان کے بیکار ہنس پڑے
سب یار ہنس پڑے سبھی غمخوار ہنس پڑے

مت پوچھ کیسے ہم نے گزاری ہے زندگی
بیکار رو دئیے کبھی بیکار ہنس پڑے

اوڑھوں جو خامشی تو سبھی کو ہو اعتراض
کھولوں جو ہونٹ منزلِ گفتار ہنس پڑے

اگلے جنم میں پوری سہولت سے آوں گا
شاید کہ داستاں کا قلم کار ہنس پڑے

چشمے اُبل پڑیں کسی بے رنگ سنگ سے
وہ شخص دیکھ کر جو بس اک بار ہنس پڑ

چھت میں پڑی دراڑ سے کرنوں نے دی صدا
اور پھر قفس کے سب در و دیوار ہنس پڑے

ٓاس واسطے بھی چیخنا لازم ہوا مقیم
ممکن تھا اب کی بار گنہگار ہنس پڑے

مجموعی مطلب

رضوان مقیم صاحب کی یہ غزل زندگی کی تلخیوں، انسانی رویوں، اور بے حسی کے خلاف احتجاج کا احاطہ کرتی ہے۔ شاعر بتاتے ہیں کہ جب انسان حالات کے ہاتھوں ٹوٹ جاتا ہے تو دنیا اور اپنے بھی اس کے دکھ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ خاموشی اختیار کی جائے تو اعتراض ہوتا ہے اور اگر بات کی جائے تو محفل طنز کرتی ہے۔ یہ غزل مقدر اور تقدیر کے لکھے پر ایک خوبصورت سوالیہ نشان بھی قائم کرتی ہے، ساتھ ہی امید کی اس چھوٹی سی کرن کا بھی ذکر کرتی ہے جو قید اور مظلومیت میں بھی حوصلہ دیتی ہے۔ آخر میں شاعر اپنے حق اور وجود کے لیے آواز اٹھانے (چیخنے) کو لازمی قرار دیتے ہیں تاکہ ظالم یا گنہگار جیت کا

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
غمخوارغم بانٹنے والا / ہمدرد
خامشیخاموشی / چپ رہنا
منزلِ گفتاربات چیت کی جگہ / محفلِ گفتگو
قلم کارلکھنے والا / مصنف / کہانی کار
بے رنگ سنگبے جان یا بغیر خوبصورتی کا پتھر
دراڑشگاف / نچلی جگہ یا شیشہ و چھت میں پڑنے والا فاصلہ
کرنوںسورج کی شعاعیں / روشنی
قفسپنجرہ / قید خانہ
در و دیواردروازے اور دیواریں / پورا گھر یا پنجرہ
گنہگارخطاکار / جرم کرنے والا

مزید متعلقہ پوسٹس

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
Ghazals of Habib Jalib
افلاک پہ سجتے رہتے ہیں دن رات مسلسل تارے کیوں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →