Untitled design 12

Munir Niazi

Shair-e-Haft Rang

📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistan

غزل ـ منیر نیازی

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں

غزل ـ منیر نیازی

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

 

مجموعی مطلب
منیر نیازی کی یہ غزل وفا کی شدت اور انسانی ضبط کی ایک لاجواب مثال ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حالات کی سختیوں اور وقت کی گردش نے بھی اس کے دل سے محبوب کی یاد کو مٹانے نہیں دیا؛ وہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اگرچہ محبوب نے اسے بھلا دیا، مگر اس نے اپنی محبت کو آج بھی زندہ رکھا ہے۔ غزل کے اشعار میں ایک طرف محبوب کی آنکھوں میں نیند کی تھکن کا ذکر کر کے اس کی بے چینی کو محسوس کیا گیا ہے، تو دوسری طرف معاشرے کی بے حسی پر چوٹ کی گئی ہے جہاں ہر طرف آنکھیں تو موجود ہیں مگر دل کا حال سمجھنے والا کوئی نہیں۔ شاعر نے حضرت آدمؑ کے قصے کے حوالے سے زندگی کی اس تلخی کو بھی بیان کیا ہے کہ کبھی کبھی انسان کو ان گناہوں کی سزا بھی کاٹنی پڑتی ہے جو اس نے خود نہیں کیے ہوتے۔ مقطع میں منیر نیازی ایک ایسے مضبوط کردار کا ذکر کرتے ہیں جو دکھوں کی شدت سے پتھر تو ہو گیا مگر اس نے اپنی انا اور ضبط کو ٹوٹنے نہیں دیا اور کبھی آنسو نہیں بہائے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
نقشنشان، تصویر، اثر
خمارنشہ، غنودگی، نیند کا اثر
دیوار و درگھر کے دروازے اور دیواریں (مراد پورا شہر یا ماحول)
لبِ گویابولنے والے ہونٹ، وہ زبان جو بات کر سکے
جرمِ آدمحضرت آدم علیہ السلام سے منسوب وہ خطا جس پر انہیں جنت سے نکالا گیا
نسلِ آدمانسان، آدم کی اولاد
غم سے پتھر ہوناشدید دکھ کی وجہ سے جذبات کا ختم ہو جانا یا بے حس ہو جانا

مزید متعلقہ پوسٹس

یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
میرے ہو کے رہو وصی شاه
ﺟﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →