Untitled design 5

Jaun Elia

Shair-e-Anokha Lehja

📅 1931 - 2002 | 📍 Pakistan

نظم – جون ایلیا

میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں

غزل – جون ایلیا 

میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں
شاید جان جاں شاید

کہ اب تم مجھ کو پہلے سے زیادہ یاد آتی ہو
ہے دل غمگیں بہت غمگیں

کہ اب تم یاد دل دارانہ آتی ہو
شمیم دور ماندہ ہو

بہت رنجیدہ ہو مجھ سے
مگر پھر بھی

مشام جاں میں میرے آشتی مندانہ آتی ہو
جدائی میں بلا کا التفات محرمانہ ہے

قیامت کی خبر گیری ہے
بے حد ناز برداری کا عالم ہے

تمہارے رنگ مجھ میں اور گہرے ہوتے جاتے ہیں
میں ڈرتا ہوں

مرے احساس کے اس خواب کا انجام کیا ہوگا
یہ میرے اندرون ذات کے تاراج گر

جذبوں کے بیری وقت کی سازش نہ ہو کوئی
تمہارے اس طرح ہر لمحہ یاد آنے سے

دل سہما ہوا سا ہے
تو پھر تم کم ہی یاد آؤ

متاع دل متاع جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤ
بہت کچھ بہہ گیا ہے سیل ماہ و سال میں اب تک

سبھی کچھ تو نہ بہہ جائے
کہ میرے پاس رہ بھی کیا گیا ہے

کچھ تو رہ جائے

مجموعی مطلب
جون ایلیا کی یہ نظم انسانی نفسیات کے ایک عجیب تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ شاید وہ محبوب کو مکمل طور پر بھولنے کے قریب ہے، کیونکہ اب اس کی یاد پہلے سے کہیں زیادہ شدت اور ایک خاص “دلدارانہ” انداز میں آنے لگی ہے۔ وہ اسے بھولنے کا پیش خیمہ اس لیے سمجھتا ہے کہ جب یادیں حد سے زیادہ گہری اور حسین ہونے لگیں تو شاعر کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ “وقت کی کوئی سازش” نہ ہو جو اسے سب کچھ بھلا دینے سے پہلے ایک آخری بار ان جذبوں میں غرق کر رہی ہے۔ نظم میں ایک بے بسی کا احساس ہے کہ زندگی کے سیلاب میں سب کچھ بہہ چکا ہے، اور اب شاعر اپنی بچی کھچی یادوں کو بچانے کے لیے محبوب سے التجا کرتا ہے کہ “تم کم ہی یاد آؤ”۔ وہ ڈرتا ہے کہ اگر یادوں کا یہ تسلسل یونہی رہا تو وہ اپنی ذات کا آخری اثاثہ بھی کھو دے گا۔ یہ نظم بچھڑ جانے کے بعد پیدا ہونے والی اس جذباتی ہیجان کی تصویر ہے جہاں محبت، خوف اور مصلحت ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معنی
لفظمعنی
یکسرمکمل طور پر، بالکل
غمگیںاداس، غم زدہ
شمیمِ دور ماندہدور سے آنے والی خوشبو
مشامِ جاںجان کی خوشبو سونگھنے کی حس (قوتِ شامہ)
آشتی مندانہدوستانہ طریقے سے، صلح جوئی کے ساتھ
التفاتِ محرمانہرازدارانہ توجہ، اپنائیت بھری نظر
ناز بردارینخرے اٹھانا، لاڈ پیار کرنا
تاراج گرتباہ کرنے والا، لوٹنے والا
متاعدولت، سرمایہ، پونجی
سیلِ ماہ و سالمہینوں اور سالوں کا سیلاب (وقت کا گزرنا)

مزید متعلقہ پوسٹس

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی
وہ باغ میں میرا منتظر تھا
تم جب آؤ گی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
تم بھی کہو تم سچی ہو
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →