
Mufti-e-Hind
📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistan“دیوان “سامانِ بخشش
نعت- حضور مفتیِ اعظمِ ہند
کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں
یہ کیسے گل و غنچے ہوں خوار آنکھوں میں
بسے ہوئے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں
بسا ہوا ہے کوئی گل عذار آنکھوں میں
کھلا ہے چاروں طرف لالہ زار آنکھوں میں
ہوا ہے جلوہ نما گل عذار آنکھوں میں
خزاں کے دور میں پھولی بہار آنکھوں میں
سرور و نور ہو دل میں بہار آنکھوں میں
جو خواب میں کبھی آئے نگار آنکھوں میں
وہ نور دے مرے پروردگار آنکھوں میں
کہ جلوہ گر رہے رخ کی بہار آنکھوں میں
نظر ہو قدموں پر ان کے نثار آنکھوں میں
بنائیں اپنا ہو وہ رہگذار آنکھوں میں
نہ اک نگاہ ہی صدقے ہو دل بھی قرباں ہو
کرم کرے تو وہ ناقہ سوار آنکھوں میں
بصیر کے ساتھ بصیرت بھی خوب روشن ہو
لگاؤں خاکِ قدم بار بار آنکھوں میں
تمہارے قدموں پہ موتی نثار ہونے کو
ہیں بے شمار مری اشکبار آنکھوں میں
نظر نہ آیا قرارِ دلِ حزیں اب تک
نگاہ رہتی ہے یوں بے قرار آنکھوں میں
انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں
نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے
کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں
عجب نہیں کہ لکھا لوح کا نظر آئے
جو نقشِ پا کا لگاؤں غبار آنکھوں میں
ملے جو خاکِ قدم ان کی مجھ کو قسمت سے
لگاؤں سرمہ نہ پھر زینہار آنکھوں میں
مدینہ جانِ چمن اور خزاں سے ایمن ہے
لگائے خاک وہاں کی ہزار آنکھوں میں
کھلے ہیں دیدۂ خوابِ مرگ میں بھی
یہ کس نگار کا ہے انتظار آنکھوں میں
خزاں کا دور ہوا اور وہ جہاں آئے
ہوئی ہے قدموں سے ان کے بہار آنکھوں میں
یہ اشتیاقِ تری دید کا ہے جانِ جہاں
دم آ گیا ہے دمِ احتضار آنکھوں میں
یہ آسمان کے تارے یہ نرگسِ شہلا
ترا ہی جلوہ ہے ان بے شمار آنکھوں میں
.
نوٹ – یہ خوبصورت نعت شریف حضور مفتی ِاعظم ھند کے مشہور نعتیہ دیوان” سامانِ بخشش “سے لی گئی ہے
مجموعی مطلب
حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوریؔ علیہ الرحمہ کا یہ مبارک کلام عشق و مستی کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ نعت کے اس پہلے حصے میں شاعر اپنی آنکھوں کے لیے یہ تمنّا کر رہے ہیں کہ ان میں ہر وقت سرکارِ دو عالم ﷺ کا رخِ انور بسا رہے۔ ان کے نزدیک وہ آنکھیں بیکار ہیں جو محبوب کا دیدار نہ کریں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جن آنکھوں میں مدینے کے پاکیزہ کانٹے اور وہاں کی گلیوں کی دھول بس چکی ہو، انہیں جنت کے پھول بھی نہیں بھاتے، کیونکہ مدینے کی خاک میں وہ نور ہے جو اندھیری قبر اور موت کے آخری وقت (دمِ احتضار) میں بھی مومن کی آنکھوں کو اجالا اور سکون بخشتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| کردگار / پروردگار | پیدا کرنے والا، اللہ تعالیٰ |
| روئے یار / نگار | محبوب کا چہرہ (مراد حضور ﷺ کا رخِ انور) |
| گل عذار | پھول جیسے گالوں والا، خوبصورت محبوب |
| لالہ زار | سرخ پھولوں کا باغ |
| جلوہ نما | ظاہر ہونا، سامنے آنا |
| ناقہ سوار | اونٹنی پر سوار ہونے والے (مراد حضور ﷺ) |
| بصیر و بصیرت | دیکھنے والی آنکھ اور دل کا نور (اندرونی بینائی) |
| اشکبار | آنسو بہانے والی (آنکھیں) |
| دلِ حزیں | غمگین دل، اداس دل |
| زینہار | ہرگز، کبھی بھی نہیں |
| خوابِ مرگ | موت کی نیند |
| دمِ احتضار | موت کا وقت، آخری سانسیں |
| نرگسِ شہلا | خوبصورت کالی آنکھ (ایک پھول کا نام) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved