nayab urdu shairy 9

Huzoor Mufti-e-Azam Hind

Mufti-e-Hind

📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistan

 “دیوان “سامانِ بخشش

کچھ ایسا کر دے مرے

نعت- حضور مفتیِ اعظمِ  ہند

کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

یہ کیسے گل و غنچے ہوں خوار آنکھوں میں
بسے ہوئے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں

بسا ہوا ہے کوئی گل عذار آنکھوں میں
کھلا ہے چاروں طرف لالہ زار آنکھوں میں

ہوا ہے جلوہ نما گل عذار آنکھوں میں
خزاں کے دور میں پھولی بہار آنکھوں میں

سرور و نور ہو دل میں بہار آنکھوں میں
جو خواب میں کبھی آئے نگار آنکھوں میں

وہ نور دے مرے پروردگار آنکھوں میں
کہ جلوہ گر رہے رخ کی بہار آنکھوں میں

نظر ہو قدموں پر ان کے نثار آنکھوں میں
بنائیں اپنا ہو وہ رہگذار آنکھوں میں

نہ اک نگاہ ہی صدقے ہو دل بھی قرباں ہو
کرم کرے تو وہ ناقہ سوار آنکھوں میں

بصیر کے ساتھ بصیرت بھی خوب روشن ہو
لگاؤں خاکِ قدم بار بار آنکھوں میں

تمہارے قدموں پہ موتی نثار ہونے کو
ہیں بے شمار مری اشکبار آنکھوں میں

نظر نہ آیا قرارِ دلِ حزیں اب تک
نگاہ رہتی ہے یوں بے قرار آنکھوں میں

انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں

نظر میں کیسے سمائیں گے پھول جنت کے
کہ بس چکے ہیں مدینے کے خار آنکھوں میں

عجب نہیں کہ لکھا لوح کا نظر آئے
جو نقشِ پا کا لگاؤں غبار آنکھوں میں

ملے جو خاکِ قدم ان کی مجھ کو قسمت سے
لگاؤں سرمہ نہ پھر زینہار آنکھوں میں

مدینہ جانِ چمن اور خزاں سے ایمن ہے
لگائے خاک وہاں کی ہزار آنکھوں میں

کھلے ہیں دیدۂ خوابِ مرگ میں بھی
یہ کس نگار کا ہے انتظار آنکھوں میں

خزاں کا دور ہوا اور وہ جہاں آئے
ہوئی ہے قدموں سے ان کے بہار آنکھوں میں

یہ اشتیاقِ تری دید کا ہے جانِ جہاں
دم آ گیا ہے دمِ احتضار آنکھوں میں

یہ آسمان کے تارے یہ نرگسِ شہلا
ترا ہی جلوہ ہے ان بے شمار آنکھوں میں

.

نوٹ – یہ خوبصورت نعت شریف حضور مفتی ِاعظم ھند کے مشہور نعتیہ دیوان” سامانِ بخشش “سے لی گئی ہے 

مجموعی مطلب

حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوریؔ علیہ الرحمہ کا یہ مبارک کلام عشق و مستی کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ نعت کے اس پہلے حصے میں شاعر اپنی آنکھوں کے لیے یہ تمنّا کر رہے ہیں کہ ان میں ہر وقت سرکارِ دو عالم ﷺ کا رخِ انور بسا رہے۔ ان کے نزدیک وہ آنکھیں بیکار ہیں جو محبوب کا دیدار نہ کریں۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جن آنکھوں میں مدینے کے پاکیزہ کانٹے اور وہاں کی گلیوں کی دھول بس چکی ہو، انہیں جنت کے پھول بھی نہیں بھاتے، کیونکہ مدینے کی خاک میں وہ نور ہے جو اندھیری قبر اور موت کے آخری وقت (دمِ احتضار) میں بھی مومن کی آنکھوں کو اجالا اور سکون بخشتا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
کردگار / پروردگارپیدا کرنے والا، اللہ تعالیٰ
روئے یار / نگارمحبوب کا چہرہ (مراد حضور ﷺ کا رخِ انور)
گل عذارپھول جیسے گالوں والا، خوبصورت محبوب
لالہ زارسرخ پھولوں کا باغ
جلوہ نماظاہر ہونا، سامنے آنا
ناقہ سواراونٹنی پر سوار ہونے والے (مراد حضور ﷺ)
بصیر و بصیرتدیکھنے والی آنکھ اور دل کا نور (اندرونی بینائی)
اشکبارآنسو بہانے والی (آنکھیں)
دلِ حزیںغمگین دل، اداس دل
زینہارہرگز، کبھی بھی نہیں
خوابِ مرگموت کی نیند
دمِ احتضارموت کا وقت، آخری سانسیں
نرگسِ شہلاخوبصورت کالی آنکھ (ایک پھول کا نام)

مزید متعلقہ پوسٹس

سیر گلشن کون دیکھے نعت
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحہ تیرا
کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →