nayab urdu shairy 9

Huzoor Mufti-e-Azam Hind

Mufti-e-Hind

📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistan

پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے

 “دیوان “سامانِ بخشش

پیام لے کے جو آئی صبا

نعت- حضور مفتیِ  ہند

 

پیام لے کے جو آئی صبا مدینے سے

مریضِ عشق کی لائی دوا مدینے سے

 

سنو تو غور سے آئی صدا مدینے سے

قریں ہے رحمت و فضلِ خدا مدینے سے

 

ملے ہمارے بھی دل کو جلا مدینے سے

کہ مہر و ماہ نے پائی ضیا مدینے سے

 

تمہاری ایک جھلک نے کیا اسے دلکش

فروغِ حسن نے پایا شہا مدینے سے

 

تمام شاہ و گدا پل رہے ہیں اسی در سے

ملی جہان کو روزی صدا مدینے سے

 

جو آیا لے کے گیا کون لوٹا خالی ہاتھ

بتادے کوئی سنا ہو جو لا مدینے سے

 

بتادے کوئی کسی اور سے بھی کچھ پایا

جسے ملا جو ملا وہ ملا مدینے سے

 

وہ آگیا خلد میں جو آگیا مدینے میں

گیا وہ خلد سے جو چل دیا مدینے سے

 

نہ چین پائے گا یہ غم زدہ کسی صورت

مریضِ غم کو ملے گی شفا مدینے سے

 

لگاؤ دل کو نہ دنیا میں ہو کسی شے سے

تعلق اپنا ہو کعبے سے یا مدینے سے

 

گدا کی راہ جہاں دیکھیں پھر نوا کیوں ہو

نوا سے پہلے ملے بے نوا مدینے سے

 

چمن کے پھول کھلے مردہ دل بھی جی اٹھے

نسیمِ خلد سے آئی ہے یا مدینے سے

 

کرے گی مردوں کو زندہ یہ تشنوں کوسیراب

وہ دیکھو اٹھی کرم کی گھٹا مدینے سے

 

مدینہ چشمۂ آبِ حیات ہے یارو

چلو ہمیشہ کی لے لو بقا مدینے سے

 

فضائے خلد کے قرباں مگر وہ بات کہاں

ملائیں حضرتِ رضوان ذرا مدینے سے

 

ہمارے دل کو تو بھایا ہے طیبہ ہی زاہد

تمہیں ہے مکہ تو ہوگا سوا مدینے سے

 

چلے جو طیبہ سے مسلم تو خلد میں پہنچے

کہ سیدھا خلد کا ہے راستہ مدینے سے

 

تم ایک آن میں آئے گئے تمہارے لیے

دو گام بھی نہیں عرشِ علا مدینے سے

 

تمہارے قدموں پہ سر صدقے جاں فدا ہو جائے

نہ لائے پھر مجھے میرا خدا مدینے سے

 

ترے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد

الہیٰ نکلے یہ نجدی بلا مدینے سے

 

ترے نصیب کا نوریؔ ملے گا تجھ کو بھی

لے آئے حصہ یہ شاہ و گدا مدینے سے

 

.

نوٹ – یہ خوبصورت نعت شریف حضور مفتی ِاعظم ھند کے مشہور نعتیہ دیوان” سامانِ بخشش “سے لی گئی ہے 

مجموعی مطلب

اس نعتِ پاک کا مرکزی خیال مدینہ منورہ کی عظمت، برکات اور وہاں سے ملنے والی روحانی شفا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ مدینے سے آنے والی ہوا محض ہوا نہیں، بلکہ عشقِ رسول ﷺ کے بیماروں کے لیے شفا کا پیغام اور دوا ہے۔ کائنات کی ہر بڑی سے بڑی اور روشن چیز (جیسے سورج اور چاند) نے بھی اپنی چمک اور روشنی مدینے والے آقا ﷺ کے صدقے ہی پائی ہے۔ اس دربار سے دنیا کا ہر امیر و غریب (شاہ و گدا) فیض پا رہا ہے اور کوئی بھی وہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ نعت کے آخری اشعار میں مدینہ منورہ کو “آبِ حیات” (ہمیشہ کی زندگی دینے والا چشمہ) قرار دیا گیا ہے اور جنت کے نگران فرشتے (حضرتِ رضوان) سے کہا گیا ہے کہ جنت اپنی جگہ خوبصورت سہی، لیکن مدینے کے حسن اور مرتبے کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
صباصبح کی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا
مریضِ عشقعشق کا بیمار (یہاں مراد عشقِ رسول ﷺ کا بیمار)
جلاروشن کرنا / چمکانا (دل کو زندہ کرنا)
مہر و ماہسورج اور چاند
ضیاروشنی / چمک
فروغِ حسنخوبصورتی کا نکھار / چمک دمک
شہااے بادشاہ! (حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ مراد ہے)
شاہ و گدابادشاہ اور فقیر
صداہمیشہ (یہاں 'ہمیشہ' کے معنی میں استعمال ہوا ہے)
خلدجنت / بہشت
بے نوافقیر / مجبور / جس کے پاس کچھ نہ ہو
نسیمِ خلدجنت کی ٹھنڈی ہوا
تشنوںپیاسوں (تشنہ کی جمع)
آبِ حیاتوہ پانی جسے پی کر ہمیشہ کی زندگی مل جائے
بقاہمیشہ کی زندگی / قائم رہنا
حضرتِ رضوانجنت کے نگران فرشتہ (داروغۂ جنت)
خلدجنت / ہمیشہ رہنے کا باغ
عرشِ علاسب سے بلند عرش / اللہ تعالیٰ کا عرش
دو گامدو قدم (بہت ہی کم فاصلہ)
شاہ و گدابادشاہ اور فقیر (یعنی ہر خاص و عام)

مزید متعلقہ پوسٹس

Naats Sharif of Ahmed Raza Khan
لم یاتِ نظیرک فی نظرٍ
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →