
Mufti-e-Hind
📅 1892 - 1981 | 📍 Pakistanنعتِ پاک — حصہ دوم
“دیوان “سامانِ بخشش
نعتِ پاک — حصہ دوم
نعت- حضور مفتیِ اعظمِ ہند
یہ دم ہمارا کوئی دم کا اور مہماں ہے
کرم سے لیجئے دم بھر قرار آنکھوں میں
وہ سبز سبز نظر آ رہا ہے گنبدِ سبز
قرار آ گیا یوں بے قرار آنکھوں میں
بہارِ دنیا ہے فانی نظر نہ کر اس پر
ہے کوئی دم کی یہ ساری بہار آنکھوں میں
یہ گل یہ غنچے یہ گلشن کے بیل اور بوٹے
انہیں کے دم کی ہے ساری بہار آنکھوں میں
یہ حالِ زار ہے فرقت میں تیرے مضطر کا
کہ اشک آتے ہیں بے اختیار آنکھوں میں
وہی مجھے نظر آئیں جدھر نگاہ کروں
انہیں کا جلوہ رہے آشکار آنکھوں میں
یہ دل تڑپ کے کہیں آنکھوں میں نہ آ جائے
کہ پھر رہا ہے کسی کا مزار آنکھوں میں
نہ ایسے پھول کھلے ہیں کبھی نہ آگے کھلیں
بہاروں میں ہے عرب کی بہار آنکھوں میں
قریب ہے رگِ گردن سے پر جدا ہے وہ
نہ یار دل میں مکیں ہے نہ یار آنکھوں میں
یہ قرب اور یہ دوری خدا کی قدرت ہے
کہ ہوگا خلد میں دیدارِ یار آنکھوں میں
کرم یہ مجھ پہ کیا ہے مرے تصور نے
کہ آج کھینچ دی تصویرِ یار آنکھوں میں
فرشتے پوچھتے ہو مجھ سے کس کی امت ہے
لو دیکھ لو یہ ہے تصویرِ یار آنکھوں میں
نہ صرف آنکھیں ہی روشن ہوں دل بھی بینا ہو
اگر وہ آئیں کبھی ایک بار آنکھوں میں
ہزار آنکھیں تاروں کی اک گلِ مہتاب
یہ ایک پھول ہے جیسے ہزار آنکھوں میں
یوں ہی ہیں ماہِ رسالت بھی سب نبیوں میں
کہ دوسرا نہ ہوا ان بے شمار آنکھوں میں
یہ کیا سوال ہے مجھ سے کس کا بندہ ہے
میں جس کا بندہ ہوں ہے نورِ بار آنکھوں میں
ہے آشکار نظر میں جہاں کی نیرنگی
جما ہے نقشۂ لیل و نہار آنکھوں میں
جما ہوا ہے تصور میں روضۂ والا
لیے ہوئے ہیں نہ ڈالیں زینہار آنکھوں میں
نہار چہرہ والا تو گیسو ہیں واللیل
بہم ہوئے ہیں یہ لیل و نہار آنکھوں میں
پیائے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ
ہمیشہ اس کا رہے گا خمار آنکھوں میں
.
نوٹ – یہ خوبصورت نعت شریف حضور مفتی ِاعظم ھند کے مشہور نعتیہ دیوان” سامانِ بخشش “سے لی گئی ہے
مجموعی مطلب
حضور مفتیِ اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوریؔ علیہ الرحمہ کا یہ مبارک کلام عشق و مستی کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔
دنیا کی بے ثباتی اور عشق کا قرار: شاعر کہتا ہے کہ ہماری یہ زندگی چند روزہ ہے اور آخری وقت قریب ہے۔ اس آخری وقت میں اگر آنکھوں کو کوئی سکون مل سکتا ہے تو وہ صرف حضور ﷺ کے کرم اور ان کے تصور سے مل سکتا ہے۔ دنیا کی تمام بہاریں فانی ہیں، اصل بہار تو مدینے کی بہار ہے جس کے صدقے کائنات کے تمام پھول اور بوٹے لہرا رہے ہیں۔
تصورِ یار اور دیدار کا سرور: عاشق کا دل فرقت (جدائی) میں اتنا بے چین ہے کہ ہر طرف اسے اپنے محبوب ﷺ کا جلوہ اور مزارِ پاک ہی نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ قبر میں جب فرشتے سوال کرنے آئیں گے، تو عاشق کی آنکھوں میں حضور ﷺ کا رخِ انور سجا ہوگا، جو اس بات کی گواہی ہوگا کہ یہ انہی کا امتی ہے۔
حضور ﷺ کا سراپا اور رتبہ: نعت کے آخری اشعار میں حضور ﷺ کے حسنِ دلکش کا ذکر کرتے ہوئے چہرے کو روشن دن (نہار) اور زلفوں کو کالی رات (واللیل) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تمام انبیاء ستاروں کی مانند ہیں تو ہمارے نبی ﷺ چاند کی طرح ان سب کے درمیان چمک رہے ہیں۔ عشق کے اسی جام کو پی کر آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے ایک سحر انگیز خمار (سرور) بس گیا ہے۔
۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| دمِ مہماں | آخری سانسیں، عارضی زندگی (جو چند لمحوں کی مہمان ہو) |
| حالِ زار | بڑی خراب حالت، دکھ بھرا حال |
| فرقت | جدائی، ہجر، محبوب سے دور ہونا |
| مضطر | بے چین، تڑپنے والا، بے قرار |
| آشکار | ظاہر، عیاں، صاف نظر آنے والا |
| بینا | دیکھنے والا، معرفت رکھنے والا دل (اندرونی روشنی) |
| گلِ مہتاب | چاند کا پھول، چاندنی |
| روضۂ والا | بلند رتبہ روضہ (مراد حضور ﷺ کا مزارِ اقدس) |
| زینہار | ہرگز، کبھی بھی نہیں |
| نیرنگی | رنگ بدلنا، دنیا کی بے ثباتی یا تبدیلی |
| لیل و نہار | رات اور دن |
| خمار | نشہ، سرور (یہاں مراد عشقِ رسول ﷺ کا سرور ہے) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved