download 7

Parveen Shakir

Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994

📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistan

نظم – پروین شاکر

میں کیوں اس کو فون کروں

نظم – پروین شاکر

میں سوچتی ہوں کہ میں ہی کیوں پہل کروں
کیوں نہ وہ خود مجھے یاد کرے،
اسے بھی تو معلوم ہونا چاہیے
کہ کل رات پہلی بارش ہوئی تھی
ایسا موسم تو ویسے بھی
محبت اور یادوں کو جگا دیتا ہے۔

پھر دل میں خیال آتا ہے
کہ شاید وہ بھی میرے بارے میں سوچ رہا ہو
مگر اپنی انا یا مصروفیت کی وجہ سے
خاموش بیٹھا ہو۔

میں خود سے لڑتی ہوں
دل کہتا ہے اسے فون کر لو
مگر انا روک لیتی ہے۔

یوں ہی انتظار اور خواہش کے درمیان
میں ایک الجھن میں پھنسی رہتی ہوں
کہ محبت میں پہل کون کرے۔

مجموعی مطلب

پروین شاکر کی یہ نظم انسانی انا اور محبت کے درمیان کی کشمکش کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ نظم میں بارش کا ذکر اور پہل کرنے کی ہچکچاہٹ ہر محبت کرنے والے کے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ شاعرہ نے دکھایا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا سا قدم یا ایک فون کال دو دلوں کو قریب لا سکتا ہے، مگر انسان اپنی انا یا اس ڈر سے خاموش رہتا ہے کہ کہیں دوسرا اسے اس کی کمزوری نہ سمجھ لے۔ یہ نظم انتظار اور خواہش کے اس نازک موڑ کی عکاسی کرتی ہے جہاں دل تو پکارتا ہے مگر خودداری پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
پہل کرناابتدا کرنا / شروعات کرنا
اناخودی / میں / ضد (Ego)
مصروفیتکام میں مشغول ہونا
الجھنپریشانی / سوچ بچار / تذبذب

مزید متعلقہ پوسٹس

بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں
Famous Nazms of Ahmed Faraz
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →