download 7

Parveen Shakir

Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994

📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistan

نظم – پروین شاکر

وہ باغ میں میرا منتظر تھا

غزل – پروین شاکر

وہ باغ میں میرا منتظر تھا
اور چاند طلوع ہو رہا تھا

زلف شب وصل کھل رہی تھی
خوشبو سانسوں میں گھل رہی تھی

آئی تھی میں اپنے پی سے ملنے
جیسے کوئی گل ہوا سے کھلنے

اک عمر کے بعد میں ہنسی تھی
خود پر کتنی توجہ دی تھی!

پہنا گہرا بسنتی جوڑا
اور عطر سہاگ میں بسایا

آئینے میں خود کو پھر کئی بار
اس کی نظروں سے میں نے دیکھا

صندل سے چمک رہا تھا ماتھا
چندن سے بدن مہک رہا تھا

ہونٹوں پہ بہت شریر لالی
گالوں پہ گلال کھیلتا تھا

بالوں میں پروئے اتنے موتی
تاروں کا گمان ہو رہا تھا

افشاں کی لکیر مانگ میں تھی
کاجل آنکھوں میں ہنس رہا تھا

کانوں میں مچل رہی تھی بالی
بانہوں سے لپٹ رہا تھا گجرا

اور سارے بدن سے پھوٹتا تھا
اس کے لیے گیت جو لکھا تھا!

ہاتھوں میں لیے دئیے کی تھالی
اس کے قدموں میں جا کے بیٹھی

آئی تھی کہ آرتی اتاروں
سارے جیون کو دان کر دوں!

دیکھا مرے دیوتا نے مجھ کو
بعد اس کے ذرا سا مسکرایا

پھر میرے سنہرے تھال پر ہاتھ
رکھا بھی تو اک دیا اٹھایا

اور میری تمام زندگی سے
مانگی بھی تو ایک شام مانگی

مجموعی مطلب

پروین شاکر کی یہ نظم ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اپنے محبوب کے لیے مکمل طور پر خود کو وقف کر دینے کا عزم رکھتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو دلہن کی طرح سجاتی ہے، صندل اور عطر سے مہکتی ہے تاکہ اپنے ‘دیوتا’ کے سامنے بہترین روپ میں پیش ہو سکے۔ نظم کا حسن اس کے آخری حصے میں ہے جہاں وہ اپنی پوری زندگی اس کے نام کرنے آتی ہے، مگر محبوب اس کی پوری زندگی کے بجائے صرف ایک ‘شام’ (ایک لمحہ یا مختصر وقت) مانگ کر اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ محبت میں کبھی کبھی ایک مختصر سی قربانی بھی پوری زندگی پر بھاری ہوتی ہے۔ یہ نظم سپردگی اور محبت کے بے لوث جذبے کا حسین شاہکار ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
زلفِ شبِ وصلملاقات کی رات کی زلفیں (مراد رات کی سیاہی)
بسنتی جوڑازرد یا پیلے رنگ کا لباس
عطرِ سہاگسہاگ کی خوشبو
گلالسرخ رنگ کا پاؤڈر (جو خوشی میں اڑایا جاتا ہے)
افشاںچمکیلا پاؤڈر جو بالوں یا ماتھے پر لگایا جاتا ہے
دان کرناصدقہ کرنا / قربان کرنا / دے دینا
تاخیردیر ہونا (یہاں مراد زندگی بھر کا انتظار ہے)

مزید متعلقہ پوسٹس

میں شاید تم کو یکسر بھولنے والا ہوں
Famous Nazms of Ahmed Faraz
Nazams Faiz Ahmed Faiz
بے سبب تو نہ تھیں تیری یادیں
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →