
Sufi
📅 1680 - 1757 | 📍 Pakistanکافی – بابا بلھے شاہ
کافی – بابا بلھے شاہ
رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی
رانجھا میں وچ ، میں رانجھے وچ ، ہور خیال نہ کوئی
میں نہیں اوہ آپ ہے اپنی آپ کرے دل جوئی
جو کوئی ساڈے اندر وسّے ، ذات اساڈی سو ای
ہتھ کھونڈی میرے اگے منگو ، موڈھے بھُورا لوئی
بلّھا ہیر سلیٹی ویکھو ، کتھّے جا کھلوئی
جس دے نال میں نیونہہ لگایا ، اوہو جیہی ہوئی
تخت ہزارے لے چل بلھیا ، سیالِیں ملے نہ ڈھوئی
اس کافی میں بابا بُلھے شاہ ہیر کی زبان سے بیان کرتے ہیں کہ رانجھا رانجھا پکارتے ہوئے میں خود ہی رانجھا بن گئی ہوں۔ اب مجھے کوئی ہیر نہ کہے بلکہ مجھے “دھیدو رانجھا” (رانجھے کا اصل نام) کہہ کر پکارو۔ وہ فرماتے ہیں کہ اب میرے اور رانجھے کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا، میرے اندر وہی بستا ہے اور ہماری ذات ایک ہو چکی ہے۔ یہ اصل میں انسانی روح کا اپنے خالق (اللہ) کے عشق میں ڈوب جانے کا استعارہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کے ساتھ میں نے دل لگایا، میں اب بالکل ویسی ہی ہو گئی ہوں۔ آخر میں وہ “تخت ہزارے” (محبوب کے اصل گھر/حقیقی وطن) جانے کی تمنا کرتے ہیں کیونکہ اس مادی دنیا (سیالوں) میں اب ان کا دل نہیں لگتا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| آپے | خود ہی (By myself / Automatically) |
| سدّو | پکارو / بلاؤ |
| دھیدو رانجھا | رانجھے کا اصل نام (دھیدو) |
| دل جوئی | تسلّی دینا / دل بہلانا |
| کھونڈی | وہ لاٹھی جس کا سرا مڑا ہوا ہو (چرواہے کی لاٹھی) |
| منگو | مویشیوں کا ریوڑ / بھینسیں |
| بھُورا لوئی | کالی کملی / موٹی اونی چادر |
| نیونہہ | محبت / پیار / عشق |
| تخت ہزارہ | رانجھے کا آبائی شہر (مراد: عالمِ ارواح یا اصل وطن) |
| ڈھوئی | پناہ / ٹھکانہ / جگہ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved