Untitled design 19

Bbab Bulleh Shah

Sufi

📅 1680 - 1757 | 📍 Pakistan

کافی – بابا بلھے شاہ

رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی

کافی – بابا بلھے شاہ

رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی 

رانجھا میں وچ ، میں رانجھے وچ ، ہور خیال نہ کوئی
میں نہیں اوہ آپ ہے اپنی آپ کرے دل جوئی

جو کوئی ساڈے اندر وسّے ، ذات اساڈی سو ای
ہتھ کھونڈی میرے اگے منگو ، موڈھے بھُورا لوئی

بلّھا ہیر سلیٹی ویکھو ، کتھّے جا کھلوئی
جس دے نال میں نیونہہ لگایا ، اوہو جیہی ہوئی
تخت ہزارے لے چل بلھیا ، سیالِیں ملے نہ ڈھوئی


مجموعی مطلب

اس کافی میں بابا بُلھے شاہ ہیر کی زبان سے بیان کرتے ہیں کہ رانجھا رانجھا پکارتے ہوئے میں خود ہی رانجھا بن گئی ہوں۔ اب مجھے کوئی ہیر نہ کہے بلکہ مجھے “دھیدو رانجھا” (رانجھے کا اصل نام) کہہ کر پکارو۔ وہ فرماتے ہیں کہ اب میرے اور رانجھے کے درمیان کوئی فرق نہیں رہا، میرے اندر وہی بستا ہے اور ہماری ذات ایک ہو چکی ہے۔ یہ اصل میں انسانی روح کا اپنے خالق (اللہ) کے عشق میں ڈوب جانے کا استعارہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس کے ساتھ میں نے دل لگایا، میں اب بالکل ویسی ہی ہو گئی ہوں۔ آخر میں وہ “تخت ہزارے” (محبوب کے اصل گھر/حقیقی وطن) جانے کی تمنا کرتے ہیں کیونکہ اس مادی دنیا (سیالوں) میں اب ان کا دل نہیں لگتا۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
آپےخود ہی (By myself / Automatically)
سدّوپکارو / بلاؤ
دھیدو رانجھارانجھے کا اصل نام (دھیدو)
دل جوئیتسلّی دینا / دل بہلانا
کھونڈیوہ لاٹھی جس کا سرا مڑا ہوا ہو (چرواہے کی لاٹھی)
منگومویشیوں کا ریوڑ / بھینسیں
بھُورا لوئیکالی کملی / موٹی اونی چادر
نیونہہمحبت / پیار / عشق
تخت ہزارہرانجھے کا آبائی شہر (مراد: عالمِ ارواح یا اصل وطن)
ڈھوئیپناہ / ٹھکانہ / جگہ

مزید متعلقہ پوسٹس

بلھا کی جاناں میں کون
تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا
مرنڑ کولوں مینوں روک نہ ملّا ​
بھانویں جان نہ جان وے، ویہڑے آ وڑ میرے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →