
koi laqab nahi mila
📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistanغزل – ناصر کاظمی
غزل – ناصر کاظمی
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے
عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے
سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل
مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے
وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے
کسے ڈھونڈھوگے ان گلیوں میں ناصرؔ
چلو اب گھر چلیں دن جا رہا ہے
مجموعی مطلب
ناصر کاظمی کی یہ غزل انتظار، تنہائی اور بیتے ہوئے وقت کی یادوں کا ایک حسین مرقع ہے۔ مطلع میں شاعر محبوب کے آنے کی امید اور اس ‘دھوکے’ کا ذکر کرتا ہے جس کے سہارے وہ رات بھر دیئے کی مانند خود کو جلائے رکھتا ہے۔ غزل کے اشعار میں ‘دریا کا چڑھنا’ آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کی شدت کو بیان کرتا ہے، جبکہ بادل کے برسنے اور شہر کے پیاسا رہنے کا استعارہ محرومی کی وہ انتہا ہے جہاں آس پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ مقطع میں ناصر نے اپنی مخصوص اداسی کے ساتھ زندگی کی شام کا تذکرہ کیا ہے، جہاں وہ خود کو ان خالی گلیوں سے واپس گھر چلنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اب ڈھونڈنے کا وقت گزر چکا ہے۔ یہ غزل انسانی دل کی اس خاموش تڑپ کو بیان کرتی ہے جو صرف تنہائی کی راتوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| دھوکا سا رہنا | وہم ہونا / گمان ہونا |
| دریا چڑھنا | آنسوؤں کی کثرت / سیلاب آنا |
| عالم | حالت / کیفیت |
| پچھلی رات | رات کا آخری پہر (صبح سے پہلے) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved