Untitled design 13

Nasir Kazmi

koi laqab nahi mila

📅 1925 - 1972 | 📍 Pakistan

غزل – ناصر کاظمی

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے

غزل – ناصر کاظمی

ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے

عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے

سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل
مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے

وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا
جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے

کسے ڈھونڈھوگے ان گلیوں میں ناصرؔ
چلو اب گھر چلیں دن جا رہا ہے

مجموعی مطلب
ناصر کاظمی کی یہ غزل انتظار، تنہائی اور بیتے ہوئے وقت کی یادوں کا ایک حسین مرقع ہے۔ مطلع میں شاعر محبوب کے آنے کی امید اور اس ‘دھوکے’ کا ذکر کرتا ہے جس کے سہارے وہ رات بھر دیئے کی مانند خود کو جلائے رکھتا ہے۔ غزل کے اشعار میں ‘دریا کا چڑھنا’ آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کی شدت کو بیان کرتا ہے، جبکہ بادل کے برسنے اور شہر کے پیاسا رہنے کا استعارہ محرومی کی وہ انتہا ہے جہاں آس پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ مقطع میں ناصر نے اپنی مخصوص اداسی کے ساتھ زندگی کی شام کا تذکرہ کیا ہے، جہاں وہ خود کو ان خالی گلیوں سے واپس گھر چلنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اب ڈھونڈنے کا وقت گزر چکا ہے۔ یہ غزل انسانی دل کی اس خاموش تڑپ کو بیان کرتی ہے جو صرف تنہائی کی راتوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
دھوکا سا رہناوہم ہونا / گمان ہونا
دریا چڑھناآنسوؤں کی کثرت / سیلاب آنا
عالمحالت / کیفیت
پچھلی راترات کا آخری پہر (صبح سے پہلے)

مزید متعلقہ پوسٹس

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
چمن میں رنگ بہار اترا تو میں نے دیکھا
کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
Ghazals of Wasi Shah
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →