Untitled design 12

Munir Niazi

Shair-e-Haft Rang

📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistan

تم بھی کہو۔۔۔۔۔۔ تم سچی ہو

نیا موہ

نظم – منیر نیازی


تم بھی کہو۔۔۔۔۔۔ تم سچی ہو

تم بھی ان کاجل سے سجی آنکھوں میں آنسو لے آؤ

تم بھی ان کومل ہونٹوں سے چاہت کے سنگیت سناؤ

ایسی رات میں جب آکاش پہ گہرا، گھور اندھیرا ہے

دور دور کی آوازوں نے سکھ کا جال بکھیرا ہے

تم بھی چھیڑ کے پریت کی باتیں بھولے بسرے غم کو جگاؤ

تم سے کہوں میں، مجھ سے کہو تم

ساتھ نبھانے والی باتیں

دل کو لبھانے والی باتیں

تم سے کون کہے یہ چاہت رات کی رات ہے، مٹ جائے گی

رات کی مہکی سیج کی خوشبو، دن آیا تو مٹ جائے گی

یوں ہی ہر من موہنی صورت

دل میں جو بس جاتی ہے

رو رو کر سمجھاتی ہے

میں سچی ہوں۔۔۔۔۔۔،،

نظم کا مجموعی مفہوم 

منیر نیازی کی یہ نظم “نیا موہ” (یعنی نئی محبت یا نیا لگاؤ) ایک انتہائی رومانوی اور جذباتی شاہکار ہے، جس میں ہندی اور اردو الفاظ کا خوبصورت ملاپ ہے۔ نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ محبت کے ابتدائی لمحات کتنے دلکش مگر عارضی ہوتے ہیں۔ شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اس گہری اندھیری رات میں تم بھی محبت کے جھوٹے سچے دلاسے دو، اپنی کاجل لگی آنکھوں میں آنسو لاؤ اور محبت کے گیت سناؤ تاکہ دل کو کچھ دیر کے لیے سکون ملے۔ لیکن نظم کے دوسرے حصے میں شاعر اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ یہ دل کو لبھانے والی باتیں اور رات کی چاہت صرف عارضی ہے، جو صبح کا دن نکلتے ہی مہکی ہوئی سیج کی خوشبو کی طرح اڑ جائے گی۔ پھر بھی، ہر خوبصورت صورت دل میں بس کر رو رو کر یہی یقین دلاتی ہے کہ وہ سچی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
موہمحبت، لگاؤ، الفت، کشش
کومل ہونٹوںنرم و نازک ہونٹ
سنگیتtd>گیت، راگ، موسیقی
آکاشآسمان
گھور اندھیرابہت گہرا اور تند و تیز اندھیرا
پریتعشق، محبت، پیار
من موہنیدل کو بھانے والی، پُرکشش صورت

مزید متعلقہ پوسٹس

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
تمہیں کتنا چاہتے ہیں – نظم
یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
Nazams of Wasi Shah
← پچھلی پوسٹ