
Shair-e-Haft Rang
📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistanنظم – منیر نیازی
تم بھی کہو۔۔۔۔۔۔ تم سچی ہو
تم بھی ان کاجل سے سجی آنکھوں میں آنسو لے آؤ
تم بھی ان کومل ہونٹوں سے چاہت کے سنگیت سناؤ
ایسی رات میں جب آکاش پہ گہرا، گھور اندھیرا ہے
دور دور کی آوازوں نے سکھ کا جال بکھیرا ہے
تم بھی چھیڑ کے پریت کی باتیں بھولے بسرے غم کو جگاؤ
تم سے کہوں میں، مجھ سے کہو تم
ساتھ نبھانے والی باتیں
دل کو لبھانے والی باتیں
تم سے کون کہے یہ چاہت رات کی رات ہے، مٹ جائے گی
رات کی مہکی سیج کی خوشبو، دن آیا تو مٹ جائے گی
یوں ہی ہر من موہنی صورت
دل میں جو بس جاتی ہے
رو رو کر سمجھاتی ہے
میں سچی ہوں۔۔۔۔۔۔،،
منیر نیازی کی یہ نظم “نیا موہ” (یعنی نئی محبت یا نیا لگاؤ) ایک انتہائی رومانوی اور جذباتی شاہکار ہے، جس میں ہندی اور اردو الفاظ کا خوبصورت ملاپ ہے۔ نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ محبت کے ابتدائی لمحات کتنے دلکش مگر عارضی ہوتے ہیں۔ شاعر اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ اس گہری اندھیری رات میں تم بھی محبت کے جھوٹے سچے دلاسے دو، اپنی کاجل لگی آنکھوں میں آنسو لاؤ اور محبت کے گیت سناؤ تاکہ دل کو کچھ دیر کے لیے سکون ملے۔ لیکن نظم کے دوسرے حصے میں شاعر اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ یہ دل کو لبھانے والی باتیں اور رات کی چاہت صرف عارضی ہے، جو صبح کا دن نکلتے ہی مہکی ہوئی سیج کی خوشبو کی طرح اڑ جائے گی۔ پھر بھی، ہر خوبصورت صورت دل میں بس کر رو رو کر یہی یقین دلاتی ہے کہ وہ سچی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| موہ | محبت، لگاؤ، الفت، کشش |
| کومل ہونٹوں | نرم و نازک ہونٹ |
| سنگیتtd> | گیت، راگ، موسیقی |
| آکاش | آسمان |
| گھور اندھیرا | بہت گہرا اور تند و تیز اندھیرا |
| پریت | عشق، محبت، پیار |
| من موہنی | دل کو بھانے والی، پُرکشش صورت |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved