
Khatoon-e-Ghazal | 1952 - 1994
📅 1952 - 1994 | 📍 Pakistanنظم – پروین شاکر
نظم – پروین شاکر
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟
میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب
اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا
ایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا
بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں
اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا
کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے
اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں
”آنکھ میں پڑ گیا کچھ” کہہ کے یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ
ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر
اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل
یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی
میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟
مجھ کو پوچھا تھا مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟
اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے
کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکن
اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا
یہ نظم پروین شاکر کی ایک جذباتی داستان ہے جس میں وہ اس خود فریبی اور امید کا ذکر کرتی ہیں جو اکثر محبت کرنے والوں کے دلوں میں ہوتی ہے۔ شاعرہ تصور کرتی ہیں کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کا محبوب کتنا بے چین ہوگا، انہیں ہر جگہ ڈھونڈتا ہوگا اور ان کی بیماری کا سن کر کتنا پریشان ہوا ہوگا۔ لیکن نظم کا آخری حصہ حقیقت کی وہ تلخ گھونٹ ہے جہاں پتا چلتا ہے کہ محبوب کو تو شاید ان کی کمی کا احساس تک نہ تھا۔ یہ نظم خوابوں کے ٹوٹنے اور اس اذیت کو بیان کرتی ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کسی کے لیے اتنا اہم نہیں تھا جتنا اس نے خود کو فرض کر لیا تھا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نیم دراز | آدھا لیٹا ہوا / آرام کی حالت میں |
| کوچۂ رنگ و بو | خوشبو اور رنگوں کی گلی (مراد وہ جگہ جہاں وہ ملتے تھے) |
| کٹھن | مشکل / دشوار |
| مانوس | جانی پہچانی / جانی بوجھی |
| عذر | بہانہ / معذرت |
| علالت | بیماری / ناسازیِ طبع |
| بھرم ٹوٹنا | حقیقت کا سامنے آنا / اعتبار ختم ہونا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved