
Khuda-e-Sukhan
📅 1723 - 1810 | 📍 India
غزل -میر تقی میر
غزل -میر تقی میر
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے
رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنی
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش
دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
مجموعی مطلب
خدائے سخن میر تقی میر کی یہ غزل محبت میں رسوائی اور محبوب کی حد درجہ بے پروائی کی ایک شاہکار عکاسی ہے۔ مطلع میں میر فرماتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ (پتا پتا، بوٹا بوٹا) ان کی حالتِ زار سے واقف ہے، مگر وہ ‘گل’ یعنی محبوب جس کے لیے یہ سارا تماشہ برپا ہے، وہی ان کے حال سے بے خبر بنا ہوا ہے۔ غزل کے اشعار میں محبوب کے تکبر اور خود آرائی پر چوٹ کی گئی ہے کہ وہ اپنی خوبصورتی کے زعم میں کسی کی پروا نہیں کرتا۔ میر نے عاشق کی سادگی کا ذکر بھی کیا ہے جو جان کے نقصان کو بھی عشق میں نفع (وارا) سمجھتا ہے۔ پوری غزل میں میر کا مخصوص سوز و گداز اور محبوب کی سنگدلی کا گلہ نہایت فنکاری سے پرویا گیا ہے، جو قاری کو ایک اداس مگر خوبصورت کیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| گوہرِ گوش | کان کا موتی (محبوب کے کان کا زیور) |
| چشمِ مہ و خور | چاند اور سورج کی آنکھ |
| مغرورِ خود آرا | اپنی ہی ذات کی سجاوٹ پر ناز کرنے والا |
| وارا | فائدہ، نفع، غنیمت |
| چارہ گری | علاج کرنا، دکھ کا مداوا |
| شکار فریبی | شکار کو دھوکہ دینے کا فن |
| طائر | پرندہ |
| اساریٰ | قیدی (اسیر کی جمع) |
| لطف و عنایت | مہربانی اور بخشش |
| رمز و اشارہ | بھید اور آنکھوں کے اشارے |
| تشنۂ خوں | خون کا پیاسا |
| آبِ تیغ | تلوار کی دھار یا اس کی چمک |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved