
Imam Barelvi
📅 1856–1921 | 📍 Indiaنعت- اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی
لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا
منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا
یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا
لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا
انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا
یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک
مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا
وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا
اَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا
اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا
بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا
کلام کا مجموعی مفہوم
اعلیٰ حضرتؒ کا یہ منفرد کلام چار مختلف زبانوں (عربی، فارسی، اردو اور برج بھاشا) کا ایک ایسا حسین سنگم ہے جو ان کی بے پناہ علمی اور ادبی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ اس نعتِ پاک میں وہ حضورِ اکرمﷺ کی بے مثل جمال اور کائناتی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں فریاد کرتے ہیں کہ “یا رسول اللہﷺ! میری کشتی مصائب کے طوفان میں پھنسی ہوئی ہے، آپ کرم فرما کر اسے پار لگا دیجیے۔” وہ مدینہ پاک کی یاد میں تڑپتے ہوئے اپنی جان، مال اور سب کچھ عشقِ مصطفیٰﷺ میں نچھاور کرنے کا اظہار کرتے ہیں اور آخری شعر میں عاجزی سے فرماتے ہیں کہ یہ رنگِ شاعری میرا نہیں، بلکہ دوستوں کی فرمائش پر میں نے اس راہ میں قلم اٹھایا ہے۔
| لفظ / مصرع | زبان | معنی |
|---|---|---|
| Lam ya'ti naziiruka fii nazarin | عربی | میری نظر میں آپﷺ جیسی کوئی مثال پیدا ہی نہیں ہوئی۔ |
| Misli tho na shud paidaa jaanaa | فارسی/اردو | اے میری جان! آپﷺ جیسا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ |
| Jag raaj کو تاج | برج بھاشا | پوری دنیا کی بادشاہت کا تاج آپ کے سر پر ہے۔ |
| Al-bahru 'ulaa w-al-mowju taghaa | عربی | سمندر گہرا ہے اور موجیں سرکش (طوفانی) ہیں۔ |
| Man bekaso tuufaan hosh rubaa | فارسی/اردو | میں بے سہارا ہوں اور طوفان ہوش اڑانے والا ہے۔ |
| Morii nayyaa paar laga jaanaa | برج بھاشا | میری کشتی کو پار لگا دیجیے۔ |
| Yaa shamso nazarti ilaa lailii | عربی | اے ہدایت کے سورج! میری رات (تاریکی) پر ایک نظر فرمائیے۔ |
| Ana fii 'atashin wa sakhaaka atam | عربی | میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت سب سے کامل ہے۔ |
| Moraa jiiraa larje darak darak | برج بھاشا | میرا دل دھک دھک کر کے کانپ رہا ہے۔ |
| Arroohuu fidaaka fazid harqa | عربی | میری روح آپ پر فدا ہو، میری اس تڑپ کو مزید بڑھا دیجیے۔ |
| Bas khaama-e-khaamay nawaa-ay RAZA | فارسی | رضا کا کچا قلم اور ناقص آواز بس یہیں تک تھی۔ |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved