imam ahmed raza khan barelvi nayab shairy

Imam Ahmed Raza Khan Barelvi

Imam Barelvi

📅 1856–1921 | 📍 India

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحہ تیرا

واہ کیا جود و کرم ہے

نعت- اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحہ تیرا 

نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

 
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرا
 
تیرے قدموں میں جو، میں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوہ تیرا 
 
ایک میں کیا میرے عصیاں کی حقیقت کتنی
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
 
مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی 
اب عمل پوچھتے ہیں ہائے نکما تیرا
 
تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
 
تو جو چاہے تو بھی میل میرے دل کے دھلیں
 کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا
 
تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو میرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا
 
 

مجموئی مطلب

یہ کلام امامِ اہلِ سنت کی حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں عقیدت، محبت اور امید کا اظہار ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کی سخاوت، رحمت اور عطا بے مثال ہے۔ آپ کے در سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ دنیا و آخرت کی ہر نعمت آپ ہی کے وسیلے سے ملتی ہے۔ شاعر اپنے گناہوں اور کم عملی کا اعتراف کرتے ہوئے بھی حضور ﷺ کی رحمت سے ناامید نہیں، بلکہ یقین رکھتا ہے کہ آپ ﷺ کی ایک نظر اور اشارہ لاکھوں گناہوں کی بخشش کے لیے کافی ہے۔ آخر میں امام احمد رضا اپنے پیر و مرشد حضرت غوثِ اعظمؒ کے وسیلے سے حضور ﷺ کی بارگاہ میں شفاعت کی امید رکھتے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
جود و کرمسخاوت اور مہربانی
شہِ بطحہمکہ کے بادشاہ، حضور ﷺ
عطابخشش / دینا
سخافیاضی / دریا دلی
ذرّہبہت چھوٹا حصہ
تلوہپاؤں کا تلوہ
عصیاںگناہ
اشارہتوجہ / اشارہ
مفت پالابغیر محنت کے پرورش پانا
نکمابے عمل / سست
ٹکڑےصدقہ / نعمت کا حصہ
جھڑکیاںڈانٹ
میلدل کی گندگی / برائی
سرکارحضور ﷺ کی بارگاہ
شفیعسفارش کرنے والا
غوثحضرت غوثِ اعظمؒ
لاڈلامحبوب / پیارا

مزید متعلقہ پوسٹس

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
کچھ ایسا کر دے مرے کردگار آنکھوں میں
ایسا تجھے خالق نے نعت
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →