
Imam Barelvi
📅 1856–1921 | 📍 Indiaنعت- اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحہ تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
یہ کلام امامِ اہلِ سنت کی حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں عقیدت، محبت اور امید کا اظہار ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کی سخاوت، رحمت اور عطا بے مثال ہے۔ آپ کے در سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ دنیا و آخرت کی ہر نعمت آپ ہی کے وسیلے سے ملتی ہے۔ شاعر اپنے گناہوں اور کم عملی کا اعتراف کرتے ہوئے بھی حضور ﷺ کی رحمت سے ناامید نہیں، بلکہ یقین رکھتا ہے کہ آپ ﷺ کی ایک نظر اور اشارہ لاکھوں گناہوں کی بخشش کے لیے کافی ہے۔ آخر میں امام احمد رضا اپنے پیر و مرشد حضرت غوثِ اعظمؒ کے وسیلے سے حضور ﷺ کی بارگاہ میں شفاعت کی امید رکھتے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جود و کرم | سخاوت اور مہربانی |
| شہِ بطحہ | مکہ کے بادشاہ، حضور ﷺ |
| عطا | بخشش / دینا |
| سخا | فیاضی / دریا دلی |
| ذرّہ | بہت چھوٹا حصہ |
| تلوہ | پاؤں کا تلوہ |
| عصیاں | گناہ |
| اشارہ | توجہ / اشارہ |
| مفت پالا | بغیر محنت کے پرورش پانا |
| نکما | بے عمل / سست |
| ٹکڑے | صدقہ / نعمت کا حصہ |
| جھڑکیاں | ڈانٹ |
| میل | دل کی گندگی / برائی |
| سرکار | حضور ﷺ کی بارگاہ |
| شفیع | سفارش کرنے والا |
| غوث | حضرت غوثِ اعظمؒ |
| لاڈلا | محبوب / پیارا |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved