
Ustad-e-Zaman
📅 1859 - 1908 | 📍 Indiaمنقبت – حسن رضا خان بریلوی
نہیں خوش بخت محتاجانِ عالم میں کوئی ہم سا
ملا تقدیر سے حاجت روا فاروقِ اعظم سا
ترا رشتہ بنا شیرازۂ جمعیتِ خاطر
پڑا تھا دفترِ دینِ کتاب اللہ برہم سا
مراد آئی مرادیں ملنے کی پیاری گھڑی آئی
ملا حاجت روا ہم کو درِ سلطانِ عالم سا
ترے جود و کرم کا کوئی اندازہ کرے کیونکر
ترا اک اک گدا فیض و سخاوت میں ہے حاتم سا
خدارا مہر کر اے ذرہ پرور مہرِ نورانی
سیہ بختی سے ہے روزِ سیہ میرا شبِ غم سا
تمہارے در سے جھولی بھر مرادیں بھر کے اٹھیں گے
نہ کوئی بادشاہ تم سا نہ کوئی بے نوا ہم سا
فدا اے اُمِ کلثوم آپ کی تقدیرِ یاور کے
علی بابا ہوا دولہا ہوا فاروقِ اکرم سا
غضب میں دشمنوں کی جان ہے تیغِ سرِ افگن
خروج و رفض کے گھر میں نہ کیوں برپا ہو ماتم سا
شیاطیں مضمحل ہیں تیرے نامِ پاک کے ڈر سے
نکل جائے نہ کیوں رفضِ بد اطوار کا دم سا
منائیں عید جو ذی الحجہ میں تیری شہادت کی
الہی روز و ماہ و سن انہیں گزرے محرم سا
حسنؔ در عالمِ پستی سرِ رفعت اگر داری
بیا فارق ارادت بردرِ فاروقِ اعظم سا
اس منقبت میں استادِ زماں نے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جلالت، سخاوت اور اسلام کے لیے ان کی خدمات کا ذکر کیا ہے
دین کی مضبوطی: آپؓ کے آنے سے بکھرے ہوئے دین کو ایک مضبوط مرکز (شیرازہ) ملا۔ آپ کا دربار محتاجوں کے لیے اُمید کی جگہ ہے اور آپ کا ہر مانگنے والا سخاوت میں حاتم طائی جیسا بن جاتا ہے۔عظیم خاندانی نسبتیں: شاعر سیدہ اُمِ کلثومؓ (سیدہ فاطمہؓ اور مولا علیؓ کی صاحبزادی) کے نصیب پر قربان جاتا ہے جن کے والد مولا علیؑ ہیں اور شوہر فاروقِ اعظمؓ جیسے عظیم انسان بنے۔
دشمنانِ دین پر ہیبت: آپؓ کے نام اور انصاف کے جلال سے شیطان اور دین میں فتنہ پیدا کرنے والے کانپتے ہیں۔مقطع (آخری شعر): حسنؔ کہتے ہیں کہ اگر تم اس پست دنیا میں اپنا سر بلند کرنا چاہتے ہو، تو آؤ اور سچے دل سے خود کو فاروقِ اعظمؓ کے آستانے کا غلام بنا لو۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| محتاجانِ عالم | دنیا کے محتاج لوگ |
| حاجت روا | ضرورت پوری کرنے والا، مشکل کشا |
| شیرازہ | بکھری ہوئی چیزوں کو جوڑنے والا بندھن |
| جمعیتِ خاطر | دل کا سکون، ذہنی اطمینان |
| دفترِ دین | دین کا نظام |
| برہم | بکھرا ہوا، منتشر |
| درِ سلطانِ عالم | جہان کے بادشاہ (حضرت عمرؓ) کا دروازہ |
| جود و کرم | سخاوت اور مہربانی |
| فیض | بخشش، روحانی برکت |
| حاتم | بہت سخی شخص (حاتم طائی) |
| ذرہ پرور | چھوٹوں اور کمزوروں پر مہربانی کرنے والا |
| مہرِ نورانی | روشن سورج، نور بکھیرنے والی ہستی |
| سیہ بختی | بدقسمتی |
| روزِ سیہ | برا دن |
| شبِ غم | غم کی رات |
| بے نوا | غریب، محتاج |
| تقدیرِ یاور | مددگار قسمت، خوش نصیبی |
| تیغِ سرِ افگن | سر کاٹ دینے والی تلوار |
| خروج | بغاوت، گمراہ فرقہ خوارج |
| رفض | رفض سے منسوب عقائد |
| برپا | قائم، پیدا ہونا |
| شیاطین | شیطانوں کی جمع |
| مضمحل | کمزور، بے بس |
| بد اطوار | برے کردار والا |
| ذی الحجہ | اسلامی سال کا بارہواں مہینہ |
| عالمِ پستی | کم درجے یا ذلت کی حالت |
| سرِ رفعت | بلندی اور عظمت کا مقام |
| بیا | آ جا (فارسی) |
| ارادت | عقیدت، محبت |
| بردرِ | کے دروازے پر |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved