
Ustad-e-Zaman
📅 1859 - 1908 | 📍 Indiaمنقبت – حسن رضا خان بریلوی
اے حبِ وطن ساتھ نہ یوں سوئے نجف جا
ہم اور طرف جاتے ہیں تُو اور طرف جا
چل ہند سے چل ہند سے چل ہند سے غافل
اٹھ سوئے نجف سوئے نجف سوئے نجف جا
پھنستا ہے وبالوں میں عبث اخترِ طالع
سرکار سے پائے گا بہر شرف جا
آنکھوں کو بھی نہ محروم رکھ حسنِ ضیا سے
کی دل میں اگر اے مہِ بے داغ و کلف جا
اے کلفتِ غم بندۂ مولیٰ سے نہ رکھ کام
بے فائدہ ہوتی ہے تری عمر تلف جا
اے طلعتِ شہ آ تجھے مولیٰ کی قسم آ
اے ظلمتِ دل جا تجھے اُس رُخ کا حلف جا
ہو جلوہ فضا صاحبِ قوسین کا نائب
ہاں تیرِ دعا بہرِ خدا سوئے ہدف جا
کیوں غرقِ الم ہے دُرِ مقصود سے منہ بھر
نیسانِ کرم کی طرف اے تشنہ صدف جا
جیلاں کے شرف حضرتِ مولیٰ کے خلف ہیں
اے نا خلف اٹھ جانبِ تعظیمِ خلف جا
تفصیل کا جو یا نہ ہو مولیٰ کی ولا میں
یوں چھوڑ کے گوہر کو نہ تو بہرِ خذف جا
مولیٰ کی امامت سے محبت ہے تو اے غافل
اربابِ جماعت کی نہ تو چھوڑ کے صف جا
کہہ دے کوئی گھیرا ہے بلاؤں نے حسنؔ کو
اے شیرِ خدا بہرِ مدد تیغ بکف جا
مجموعی مطلب
اس منقبت میں حضرت حسن رضا خان نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بارگاہ (نجف اشرف) کی حاضری کی تڑپ اور ان کی ولایت و نصرت کا ذکر کیا ہے
:دیارِ نجف کی تڑپ: شاعر اپنے آپ سے اور ہر غافل انسان سے کہتا ہے کہ ہند (دنیاوی وطن) کی محبت چھوڑو اور سیدھے مولا علیؑ کے دربار “نجف” کی طرف چلو، کیونکہ اصل شرف اور بخت کا چمکنا وہیں جانے سے ملے گا۔
غموں سے نجات: مولا علیؑ کے غلاموں کو غم اور پریشانیاں نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ شاعر کہتا ہے کہ اے دل کے اندھیرے! تو دور ہو جا اور اے مولا علیؑ کے چہرے کا نور! تو میرے دل میں آ جا۔اہلِ بیت اور صحابہ کی محبت: آپؑ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان قیمتی موتی (حق) کو چھوڑ کر مٹی کے برتنوں (باطل) کے پیچھے نہ بھاگے۔ اگر مولا علیؑ سے سچی محبت ہے تو جماعت (اتحاد) کی صف کو کبھی نہ چھوڑو۔مقطع (آخری شعر): حسنؔ مصیبتوں میں گھِرے ہونے پر مولا علیؑ کو پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ کوئی جا کر کہہ دے کہ حسن بلاؤں میں ہے، اے شیرِ خدا! اب آپ ہاتھ میں تلوار لیے میری مدد کو پہنچیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| حبِ وطن | وطن کی محبت |
| سوئے نجف | نجف کی طرف |
| غافل | بے خبر، لاپرواہ |
| وبال | مصیبت، عذاب، پریشانی |
| اخترِ طالع | قسمت کا ستارہ |
| بہرِ شرف | عزت و بزرگی کے لیے |
| حسنِ ضیا | نورانی حسن، روشن جمال |
| مہِ بے داغ و کلف | عیب اور داغ سے پاک چاند |
| کلفتِ غم | غم اور پریشانی |
| بندۂ مولیٰ | حضرت علیؓ کا عقیدت مند |
| عمر تلف | زندگی ضائع ہونا |
| طلعتِ شہ | بادشاہ کے چہرے کی چمک، یہاں حضرت علیؓ کا جمال |
| ظلمتِ دل | دل کی تاریکی |
| حلف | قسم |
| جلوہ فضا | جلوہ پھیلانے والا |
| صاحبِ قوسین | نبی کریم ﷺ |
| نائب | جانشین، نمائندہ |
| تیرِ دعا | دعا کا تیر |
| ہدف | نشانہ |
| غرقِ الم | غم میں ڈوبا ہوا |
| دُرِ مقصود | مطلوبہ موتی، اصل مقصد |
| نیسانِ کرم | رحمت و بخشش کی بارش |
| تشنہ صدف | پیاسا سیپ |
| جیلاں | حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی نسبت |
| خلف | جانشین، نیک وارث |
| ناخلف | نافرمان، برے کردار والا |
| ولا | محبت، عقیدت |
| بہرِ خذف | کنکری یا حقیر چیز کی طرف |
| اربابِ جماعت | جماعت والے، اہلِ سنت کا اجتماع |
| شیرِ خدا | حضرت علیؓ کا لقب |
| تیغ بکف | ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved