Untitled design 7

Ahmad Faraz

Shair-e-Romance

📅 1931 - 2008 | 📍 Pakistan

غزل – احمد فراز

 اب کے رُت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون

غزل – احمد فراز

 اب کے رُت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون

دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گے
جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون

زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے
تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون

وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے
لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون

میری آوازوں کے سائے میرے بام و در پہ ہیں
میرے لفظوں میں اتر کر میرا گھر دیکھے گا کون

ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنا
رات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون

آ فصیل شہر سے دیکھیں غنیم شہر کو
شہر جلتا ہوتو تجھ کو بام پر دیکھے گا کون

ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فراز
شہر ناپرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون

مجموعی مطلب
احمد فراز کی یہ غزل معاشرتی بے حسی اور انسانی رویوں کی تلخی کا ایک نوحہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آنے والے وقت میں جب حالات بدلیں گے، تو ہر شخص اپنی ذات اور اپنے تماشے (رقصِ بسمل) میں اتنا مگن ہو جائے گا کہ کسی کو دوسروں کے زخموں یا تکلیف کی پروا نہیں ہوگی۔ غزل کے اشعار میں یہ گہرا دکھ بھی نمایاں ہے کہ دنیا صرف ظاہری کامیابیوں (پھل پھول) کو دیکھتی ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی جدوجہد اور کرب (شجر) پر کسی کی نظر نہیں جاتی۔ فراز نے اس سچائی کو بھی بیان کیا ہے کہ کبھی کبھی مدد کرنے والے (چارہ گر) ہی اصل زخم دے جاتے ہیں جنہیں دنیا پہچان نہیں پاتی۔ شہر کی بے حسی کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس ‘شہرِ ناپرساں’ میں کوئی کسی کے آنسو پونچھنے والا نہیں، ہر کوئی اپنی ہی مستی میں گم ہے۔ یہ غزل ایک ایسے حساس انسان کی آواز ہے جو ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور معاشرے سے ہمدردی کی امید کھو چکا ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
رقصِ بسملتڑپنا، ذبح کیے ہوئے پرندے کی طرح تڑپنا
منسوبنسبت دیا گیا، کسی کے نام لگایا ہوا
چارہ گرعلاج کرنے والا، ہمدرد، طبیب
محرومیکچھ نہ ملنا، خالی ہاتھ رہ جانا
بام و درچھت اور دروازہ (مراد: پورا گھر)
چراغِ شبرات کا دیا، اندھیرے کا چراغ
فصیلِ شہرشہر کی اونچی دیوار، پناہ گاہ
غنیمِ شہرشہر کا دشمن
شہرِ ناپرساںوہ جگہ جہاں کوئی حال پوچھنے والا نہ ہو
چشمِ ترروتی ہوئی آنکھ، نم آنکھ

مزید متعلقہ پوسٹس

بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →