Untitled design 7

Ahmad Faraz

Shair-e-Romance

📅 1931 - 2008 | 📍 Pakistan

غزل – احمد فراز

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو

غزل – احمد فراز

جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
اے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم

یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایہ ہے کہ تم ہو

اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
 دیکھو یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو 

یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو

ہر بزم میں موضوعِ سخن دل زدگان کا
اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم

اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں
 اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو

وہ وقت نہ آئے کہ دلِ زار بھی سوچے
اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو

آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
یہ رسم بھی اس شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

اے جانِ فراز اتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

مجموعی مطلب
احمد فراز کی یہ غزل محبوب کی ذات میں مکمل گمشدگی اور وارفتگی کی ایک بہترین مثال ہے۔ شاعر کو کائنات کی ہر سمت میں صرف محبوب ہی نظر آتا ہے، چاہے وہ خواب ہو، خوشبو ہو یا ہوا کا کوئی جھونکا—اسے ہر خوبصورت منظر میں محبوب کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ غزل کے اشعار میں ایک ایسی کیفیت بیان کی گئی ہے جہاں حقیقت اور واہمے کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے اور شاعر کو اپنی سانسوں تک میں محبوب کی موجودگی کا گمان ہوتا ہے۔ فراز نے بڑی خوبصورتی سے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ آج کی محفلوں میں شیریں اور لیلیٰ کے بجائے صرف محبوب ہی ‘موضوعِ سخن’ بنا ہوا ہے۔ مقطع میں وہ اعتراف کرتے ہیں کہ زندگی کی تمام تر تلخیوں اور غموں کو اگر وہ برداشت کر رہے ہیں، تو صرف اس لیے کہ محبوب کا ساتھ میسر ہے۔ یہ غزل عشق کی اس انتہا کو ظاہر کرتی ہے جہاں عاشق کی پوری دنیا محبوب کی ذات کے گرد طواف کرنے لگتی ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
جانِ جہاںپوری دنیا کی جان (محبوب)
ساعتِ دیددیکھنے کا لمحہ، ملاقات کا وقت
لرزاںکانپتے ہوئے، ہلتے ہوئے
عمرِ گریزاںتیزی سے گزرتی ہوئی زندگی
موضوعِ سخنبات چیت کا عنوان یا مرکز
دل زدگانمحبت کے مارے ہوئے لوگ، عاشق
دلِ زاردکھی دل، غمگین دل
آشفتہ سروںدیوانے لوگ، جن کے سر میں سودا ہو
مقتلقتل گاہ، جہاں قربانی دی جائے
غمِ ہستیزندگی کا دکھ، دنیا کے غم
گواراقبول کرنا، برداشت کرنا

مزید متعلقہ پوسٹس

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
Ghazals Faiz Ahmed Faiz
Urdu Ghazal Library
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →