download 10

Faiz Ahmed Faiz

Shair-e-Inqilab

📅 1911 - 1984 | 📍 Pakistan


نظم- فیض احمد فیض 

ہم دیکھیں گے

نظم- فیض احمد فیض 

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل_ِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

مجموعی مطلب
فیض احمد فیض کی یہ نظم حق کی باطل پر حتمی جیت کا اعلان ہے۔ شاعر ایک ایسی صبح کا وعدہ کرتے ہیں جہاں ظلم کے پہاڑ روئی کی طرح اڑ جائیں گے اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ظالموں پر بجلی گرے گی۔ اس نظم میں مذہبی استعاروں (جیسے انا الحق اور اللہ کا نام) کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب عوام بیدار ہوتے ہیں تو وہی اصل طاقت بن کر ابھرتے ہیں۔ یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ کائنات کا اصل نظام یہ ہے کہ آخر کار ‘خلقِ خدا’ یعنی عام انسانوں کو ہی راج کرنا ہے اور ہر آمر کو مٹ جانا ہے۔

Copy 📋

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
لوحِ ازلتقدیر کا وہ نوشتہ جو ہمیشہ سے ہے
کوہِ گراںبھاری پہاڑ (مراد ظلم کی طاقت)
محکومجن پر حکم چلایا جائے / پسے ہوئے لوگ
اہلِ حکمحکمران / صاحبِ اقتدار
ناظردیکھنے والا
انا الحقمیں حق ہوں (حق کا نعرہ)
خلقِ خدااللہ کی مخلوق / عام عوام

مزید متعلقہ پوسٹس

اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
اب کے ہم بچھڑے تو کبھی خوابوں میں ملیں
خود آپ  اپنی نظر میں حقیر میں بھی نہ تھا
Ghazals of Amjad Islam Amjad
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →