Untitled design 12

Munir Niazi

Shair-e-Haft Rang

📅 1928 - 2006 | 📍 Pakistan

غزل ـ منیر نیازی

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

غزل ـ منیر نیازی

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

گیا تو اس طرح گیا کہ مدنوں نہیں ملا
ملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے

تمام علم زیست کا گزرنے سے ہی ہوا
عمل گزرتے دور کا مثال میں ملا مجھے

نہال سبز رنگ میں جمال جس کا میں منیر
کسی قدیم خواب کے محال میں ملا مجھے

مجموعی مطلب
منیر نیازی کی یہ غزل انسانی زندگی کی محرومیوں، ادھورے خوابوں اور وقت کے گزرنے کے احساس پر مبنی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس شخص یا جس منزل کی اسے تلاش تھی، وہ اسے حقیقت میں پانے کے بجائے صرف خیالوں کی دنیا میں ملی۔ غزل کے اشعار میں ایک گہری اداسی چھپی ہے، خاص طور پر اس بات کا ذکر کہ محبوب جب بچھڑا تو ایسے گیا کہ مدتوں نہ ملا، اور جب دوبارہ ملا تو اس میں وہ پہلی جیسی خوشی نہیں تھی بلکہ ملاقات دکھ اور ملال میں ڈوبی ہوئی تھی۔ منیر نیازی نے اس کلام میں یہ فلسفہ بھی بیان کیا ہے کہ زندگی کا اصل علم اور تجربہ وقت گزرنے کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔ یہ پوری غزل ایک قدیم خواب کی طرح ہے جو حقیقت بنتے بنتے رہ گیا ہو، اور یہی منیر نیازی کی شاعری کا خاص رنگ ہے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
ملالدکھ، افسوس، رنج
علمِ زیستزندگی کا علم، جینے کا شعور
نہالپودا، نیا درخت
جمالخوبصورتی، حسن
محالناممکن، وہ کام جو نہ ہو سکے
قدیمپرانا، دیرینہ

مزید متعلقہ پوسٹس

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
اپنی رسوائی تیرے نام کا چرچا دیکھوں 
Ishq K pachtaye Hum To Dil Na Kisi Se Lgana Tha
اُس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہو گا
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →