
Sufi
📅 1680 - 1757 | 📍 Pakistanکافی – بابا بلھے شاہ
کافی – بابا بلھے شاہ
بلھا کی جاناں میں کون؟
نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دی ریتاں
نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
نہ میں موسٰی، نہ فرعون
بلھا کی جاناں میں کون؟
نہ میں اندر بھید کتاباں
نہ وچ بھنگاں، نہ شراباں
نہ وچ رِنداں مست خراباں
نہ وچ جاگن، نہ وِچ سون
بلھا کی جاناں میں کون؟
نہ وچ شادی نہ غمناکی
نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ میں* آبی نہ میں خاکی
نہ میں آتش نہ میں پون
بلھا کی جاناں میں کون؟
نہ میں عربی نہ لاہوری
نہ میں ہندی شہر نگوری
نہ ہندو نہ ترک پشوری
نہ میں رہندا وچ ندون
بلھا کی جاناں میں کون؟
نہ میں بھیت مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوّا جایا
نہ میں اپنا نام دھرایا
نہ وِچ بیٹھن، نہ وِچ بھَون
بلھا کی جاناں میں کون؟
اوّل آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا ہور پچھاناں
میتھوں ہور نہ کوئی سیانا
بلھا! اوہ کھڑا ہے کون
بلھا کی جاناں میں کون؟
اس کافی میں بُلھے شاہ انسانی وجود کی مادی اور مذہبی شناختوں کی نفی کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نہ تو مسجد میں بیٹھنے والا مومن ہوں، نہ کفر کی روایتوں کا پابند۔ میں نہ پاک ہوں نہ پلید، نہ موسیٰؑ ہوں اور نہ ہی فرعون۔ وہ زمان و مکاں، رنگ و نسل اور یہاں تک کہ عناصرِ خمسہ (آگ، پانی، مٹی، ہوا) سے بھی اپنی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا اصل مقصد یہ بتانا ہے کہ جب انسان “میں” (Ego) کو ختم کر دیتا ہے اور اللہ کی وحدانیت میں گم ہو جاتا ہے، تو وہ کسی ایک شہر، مذہب یا نسل کا نہیں رہتا۔ آخر میں وہ کہتے ہیں کہ میں صرف “ذاتِ حق” کو اول و آخر جانتا ہوں اور میرے اندر جو بول رہا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ وہی وحدت ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| ریتاں | رواج / رسمیں (Traditions) |
| پلیت | ناپاک / گندہ |
| بھید | راز / چھپی ہوئی بات |
| رِنداں | بے پرواہ / مست لوگ |
| آبی و خاکی | پانی اور مٹی سے منسوب |
| آتش و پون | آگ اور ہوا |
| شہر نگوری | بھارت کا ایک شہر "نگور" (مراد: کسی جگہ سے وابستگی) |
| ندون | بھارت کا ایک علاقہ "ندون" |
| بھَون | گھومنا پھرنا / سیر کرنا |
| دوجا | دوسرا / غیر (The Other) |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved