عملاں دے اپرِ ہوگ نبیڑا
کیا صوفی کیا بھنگی ۔رہاؤ۔
جو ربّ بھاوے سوئی تھیسی
سائی بات ہے چنگی
آپے ایک انیک کہاوے
صاحب ہے بہرنگی ۔
کہےَ حسین سہاگنِ سوئی
جے سہُ دے رنگ رنگی ۔
تشریح : شاہ حسین اس کافی میں فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن فیصلہ انسان کے القاب پر نہیں بلکہ اس کے اعمال پر ہوگا۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی ظاہری طور پر کتنا بڑا “صوفی” ہے یا کتنا “گنہگار”، اصل چیز تقویٰ اور عمل ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ وہی بات بہترین ہے جو اللہ کی رضا میں شامل ہو۔ آخر میں وہ فرماتے ہیں کہ اصل کامیاب روح وہی ہے جو اللہ کے رنگ میں رنگی گئی ہو (یعنی جس نے اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں فنا کر دیا ہو)۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نبیڑا | فیصلہ / حساب کتاب |
| بھنگی | نشہ کرنے والا / دنیا دار |
| بھاویے | پسند آئے / بھائے |
| تھیسی | ہوگا |
| بہرنگی | رنگا رنگ / بے شمار رنگوں والا |