Untitled design 15

Habib Jalib

Inqalabi Shaa’ir

📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistan

 غزل – حبیب جالب 

ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم

غزل – حبیب جالب


ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم

ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم

اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم

ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں
بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم

 
Copy 📋

مجموعی مطلب:
شاعر کہتا ہے کہ ہم بھیڑ یا خوف سے اپنا راستہ نہیں بدلتے، مشکلیں آئیں تب بھی ارادہ قائم رکھتے ہیں، دنیا کے بدلتے رنگ دیکھ کر اپنے اصول نہیں چھوڑتے۔

 
 

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
ہجومبھیڑ، بہت زیادہ لوگ
زیرِ قدمقدموں کے نیچے
خاروںکانٹوں
معتبرقابلِ اعتبار، بھروسا کے لائق
ہوا کو دیکھ کےحالات کو دیکھ کر، ماحول کے مطابق
ہم عصراںاپنے زمانے کے لوگ، ہم دور لوگ
زعمگمان، غرور، خیال

مزید متعلقہ پوسٹس

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
کئی رُتوں سے مرے نیم وا دریچوں میں
تیری خوشبو کا پتا کرتی ہے
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →