
Inqalabi Shaa’ir
📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistanغزل – حبیب جالب
غزل – حبیب جالب
دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا
چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے
ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا
غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت
پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا
پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے
کیا ہوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا
جانے کس حال میں ہیں کون سے شہروں میں ہیں وہ
زندگی اپنی جنہیں ہم نے بنائے رکھا
ہائے کیا لوگ تھے وہ لوگ پری چہرہ لوگ
ہم نے جن کے لیے دنیا کو بھلائے رکھا
اب ملیں بھی تو نہ پہچان سکیں ہم ان کو
جن کو اک عمر خیالوں میں بسائے رکھا
مجموعی مطلب
شاعر کہتا ہے کہ اس نے اپنی محبت چھپا کر رکھی، محبوب کو دل میں بسائے رکھا، دنیا کے غموں کے باوجود اس کی یاد نہ بھلائی،
اور جن لوگوں کے لیے دنیا بھلائی، وقت گزرنے پر شاید انہیں پہچاننا بھی مشکل ہو جائے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| شوق | محبت، چاہت، لگاؤ |
| پہلو | سینہ، دل کے پاس جگہ |
| غیر ممکن | ناممکن، جو ممکن نہ ہو |
| غم | دکھ، رنج، پریشانی |
| کالر | گریبان، قمیص کا گلا |
| پری چہرہ | بہت حسین، نہایت خوبصورت |
| پہچان سکیں | شناخت کر سکیں |
اردو اور پنجابی شاعروں کی بائیو گارفی
اوراردو ، پنجابی کے بہترین اشعار،
غزلیں اور منتخب کلام ایک جگہ۔
© 2026 Nayab Shairy — All Rights Reserved