Untitled design 15

Habib Jalib

Inqalabi Shaa’ir

📅 1928 - 1993 | 📍 Pakistan

غزل – حبیب جالب

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا

غزل – حبیب جالب 

دل پر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا
تجھ سے بھی ہم نے ترا پیار چھپائے رکھا

چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے
ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا

غیر ممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت
پھر بھی ہم نے ترا غم دل میں بسائے رکھا

پھول کو پھول نہ کہتے سو اسے کیا کہتے
کیا ہوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا

جانے کس حال میں ہیں کون سے شہروں میں ہیں وہ
زندگی اپنی جنہیں ہم نے بنائے رکھا

ہائے کیا لوگ تھے وہ لوگ پری چہرہ لوگ
ہم نے جن کے لیے دنیا کو بھلائے رکھا

اب ملیں بھی تو نہ پہچان سکیں ہم ان کو
جن کو اک عمر خیالوں میں بسائے رکھا

مجموعی مطلب
شاعر کہتا ہے کہ اس نے اپنی محبت چھپا کر رکھی، محبوب کو دل میں بسائے رکھا، دنیا کے غموں کے باوجود اس کی یاد نہ بھلائی،

اور جن لوگوں کے لیے دنیا بھلائی، وقت گزرنے پر شاید انہیں پہچاننا بھی مشکل ہو جائے۔

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
شوقمحبت، چاہت، لگاؤ
پہلوسینہ، دل کے پاس جگہ
غیر ممکنناممکن، جو ممکن نہ ہو
غمدکھ، رنج، پریشانی
کالرگریبان، قمیص کا گلا
پری چہرہبہت حسین، نہایت خوبصورت
پہچان سکیںشناخت کر سکیں

مزید متعلقہ پوسٹس

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
Urdu Ghazal Library
ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ​
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
← پچھلی پوسٹ اگلی پوسٹ →